
ڈھاکہ، 10 جنوری (ہ س)۔ بنگلہ دیش ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نجم الحسین نے جمعہ کو کہا کہ آئی سی سی ٹی-20 ورلڈ کپ کو لے کر چل رہے تنازعہ کا کھلاڑیوں پر گہرا ذہنی اثر پڑ رہا ہے اور ٹیم کے کھلاڑی یہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ’’سب کچھ ٹھیک ہے‘‘، جبکہ حقیقت اس سے بالکل برعکس ہے۔
ہندوستان میں مجوزہ ٹی-20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی شرکت کو لے کر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ان کے میچ ہندوستان سے باہر نہیں کرائے گئے تو ٹیم ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکتی۔ اس صورتحال کے سبب کھلاڑی ذہنی طور پر بے حد تھک چکے ہیں اور کئی کھلاڑیوں کی راتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔
نجم الحسین نے جمعہ کو صحافیوں سے کہا، ’’اگر آپ ہمارے ورلڈ کپ کی کارکردگی کو دیکھیں تو ہم کبھی لگاتار اچھا کرکٹ نہیں کھیل سکے ہیں۔ گزشتہ سال ہم نے اچھا کیا تھا، لیکن اس سے بہتر مواقع بھی تھے، جن کا ہم فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ میرے تین ورلڈ کپ کے تجربے کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ ہر ورلڈ کپ سے پہلے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے اور اس کا اثر ضرور پڑتا ہے۔‘‘
انہوں نے صاف الفاظ میں کہا، ’’ہم یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں کسی بات سے فرق نہیں پڑتا اور ہم پوری طرح پیشہ ور کرکٹر ہیں۔ آپ لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم اداکاری کر رہے ہیں - یہ آسان نہیں ہوتا۔‘‘
نجم الحسین نے آگے کہا کہ کھلاڑی تمام پریشانیوں کے باوجود ٹیم کے لیے اچھا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’کھلاڑی ان تمام رکاوٹوں کو الگ رکھ کر ٹیم کے لیے کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے، اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو بہتر ہوتا، لیکن کئی باتیں ہمارے کنٹرول سے باہر ہوتی ہیں۔‘‘
ورلڈ کپ کو لے کر انہوں نے کہا، ’’صحیح ذہنیت کے ساتھ اگر ہم ورلڈ کپ کھیلنے جاتے ہیں اور کہیں بھی کھیلتے ہیں، تو ہمارا فوکس یہی ہونا چاہیے کہ ہم ٹیم کے لیے اپنا بہترین دیں۔‘‘
اس دوران نجم الحسین نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ایم نجم الاسلام کے سوشل میڈیا تبصرے پر بھی سخت ناراضگی ظاہر کی۔ بی سی بی ڈائریکٹر نے سابق کپتان تمیم اقبال کو ’ہندوستانی ایجنٹ‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا، جس پر چاروں طرف سے تنقید ہوئی۔
نجم الحسین نے کہا، ’’یہ بہت افسوسناک ہے۔ ایک کرکٹر کے بارے میں، وہ بھی سابق کپتان اور بنگلہ دیش کے سب سے کامیاب کھلاڑیوں میں سے ایک، جن کو دیکھ کر ہم بڑے ہوئے - ان کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا۔‘‘
انہوں نے آگے کہا، ’’ایک کھلاڑی کے طور پر ہم احترام کی امید کرتے ہیں، چاہے وہ سابق کپتان ہو، ریگولر کھلاڑی ہو یا کم کامیاب رہا ہو۔ دن کے آخر میں ہر کرکٹر عزت چاہتا ہے۔‘‘
نجم الحسین نے بی سی بی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ کرکٹ بورڈ ہمارا سرپرست ہوتا ہے۔ ہم ان سے تحفظ اور حمایت کی امید کرتے ہیں۔ ایک کھلاڑی کے طور پر میں ایسا تبصرہ قبول نہیں کر سکتا۔‘‘
انہوں نے اسے خاندانی مثال سے سمجھاتے ہوئے کہا، ’’والدین گھر میں اصلاح کرتے ہیں، سب کے سامنے نہیں۔ ایسے میں کسی ایسے شخص سے، جو ہمارا سرپرست مانا جاتا ہے، اس طرح کا تبصرہ بے حد ناقابل قبول ہے۔ ایک کھلاڑی کے طور پر میں اسے پوری طرح مسترد کرتا ہوں۔‘‘
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن