
دیو، 10 جنوری (ہ س)۔ تمل ناڈو کی بیچ والی بال جوڑی بھرت اور راجیش نہ صرف کھیل بلکہ زندگی میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ کھیل میں نسبتاً دیر سے شناخت بنانے والی اس جوڑی کی دوستی ان کے کالج کے دنوں میں مضبوط ہوئی، جہاں ایک جیسے حالات اور جدوجہد نے انہیں قریب لا دیا۔
بھرت کے والد یومیہ اجرت پرپلمبر کے طور پر کام کرتے ہیں، جبکہ راجیش کے والد چنئی میں بس کنڈکٹر ہیں۔ مالی استحکام جہاں ان کے خاندانوں کے لیے ہمیشہ اولین ترجیح رہی، وہیں والی بال کو کیریئر کے طور پر منتخب کرنا آسان فیصلہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود، بھرت اور راجیش نے متعدد چیلنجوں پر قابو پایا اور دیو کے گھوگھلا بیچ پر منعقدہ کھیلو انڈیا بیچ گیمز (کے آئی بی جی ) 2026 میں بیچ والی بال میں اپنا لگاتار دوسرا چاندی کا تمغہ جیت کر اپنی صلاحیت کو ثابت کیا۔
ٹیم کے کپتان بھرت نے کہا،’’میرے والد یومیہ اجرت پر پلمبر ہیں اور راجیش کے والد بس کنڈکٹر ہیں۔ ہمارے ارد گرد کھیلوں کا کوئی خاص ماحول نہیں تھا، لیکن کبھی کبھی جذبہ دیر سے جاگتا ہے۔ ہمارے لیے، یہکالج کے ابتدائی دنوں میں ہوا۔‘‘
لائلا کالج، چنئی سے کامرس کے فارغ التحصیل بھرت اور راجیش نے اپنے خاندانوں کو اپنے سفر میں سب سے بڑا سہارا قرار دیا۔ محدود مالی تحفظ اور غیر یقینی مستقبل کے باوجود، ان کے خاندانوں نے ہمیشہ ان کے کھیلوں کے کیریئر کی حمایت کی۔
بھرت نے کہا، ’’ہم دونوں ابھی شروعاتی 20 کی عمر میں ہیں اور اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے خاندانوں نے ہم پر فوری طور پر نوکریاں تلاش کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔ زیادہ تر ہندوستانی خاندانوں میں 23 سال کی عمر میں بھی کھیل کھیلنا جاری رکھنا آسان نہیں ہوتاہے۔ ہماری آمدنی محدود ہے، لیکن ہمیں اپنے خاندانوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری کارکردگی کو تسلیم کیا جائے گا۔‘‘
جوڑی کی سب سے بڑی طاقت ان کے تجربے اور جذبے کا توازن ہے۔ بھرت 2025 کے آئی بی جی میں تمل ناڈو کی چاندی کا تمغہ جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں، جب کہ راجیش اپنی نوجوانی کی توانائی اور اسٹریٹجک سمجھ کو ٹیم میں لاتے ہیں۔ دونوں کی توجہ فوری نتائج کے بجائے مستقل مزاجی، ہم آہنگی اور طویل مدتی پیش رفت پر مرکوز ہے۔
بھرت نے کہا’’میں دیو میں 2024 میں ہوئے کھیلوں میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھا اور پچھلے سال افتتاحی کھیلو انڈیا بیچ گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ مجھے اس سال بھی اس رفتار کو جاری رکھنے پر خوشی ہے۔‘‘
سلیکشن ٹرائلز میں گولڈ میڈل جیت کر اپریل میں چین میں ہونے والی ایشین بیچ والی بال چیمپئن شپ کے لیے کوالیفائی کر چکی یہ جوڑی اب اگلے ماہ منعقد ہونے والے قومی کیمپ کی تیاری کر رہی ہے۔
تمل ناڈو کی اس جوڑی کے لیے، کے آئی بی جی 2026 ایک توسیعی تیاری کے مرحلے کی طرح ہے جہاں وہ تکنیکی بہتری، صورتحال سے ہم آہنگ ہونے اور ذہنی طاقت پر کام کر رہے ہیں تاکہ آنے والے چیلنجنگ سیزن کے لیے پوری طرح تیار رہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد