
واشنگٹن،10جنوری(ہ س)۔میکسیکو کی خاتون صدر کلاڈیا شینبوم نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت امریکہ کے ساتھ سکیورٹی رابطوں کو مضبوط کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ان کا یہ اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ منشیات فروش گروہوں، بالخصوص میکسیکن گروہوں کے خلاف زمینی حملے کرنا چاہتے ہیں۔کلاڈیا شینبوم نے اپنی معمول کی صبح کی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ میں نے کل جمعرات وزیر خارجہ جوآن رامون ڈی لا فوئنٹے سے کہا ہے کہ وہ امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ براہ راست رابطہ کریں اور اگر ضرورت پڑے تو صدر ٹرمپ سے بات کریں تاکہ ایک موجودہ دوطرفہ سکیورٹی معاہدے کے فریم ورک کے اندر رابطوں کو مضبوط کیا جا سکے۔
انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے میکسیکو کے ساتھ موجود اچھے سیکیورٹی تعاون کی تعریف کا بھی ذکر کیا۔ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ بحیرہ کیریبین اور بحر الکاہل میں منشیات کی سمگلنگ کے شبہ میں بحری جہازوں کو تباہ کرنے کے بعداب امریکہ منشیات کے کارٹلز کے خلاف زمینی حملے کرے گا تاہم انہوں نے زمینی حملوں کی مزید وضاحت نہیں کی۔امریکی صدر نے ” فاکس نیوز “ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم کارٹلز کے خلاف زمینی حملے شروع کریں گے۔ کارٹلز میکسیکو کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھنا اور اس کا مشاہدہ کرنا بہت افسوسناک ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی میکسیکن ہم منصب پر زور دیا ہے کہ وہ واشنطن کو منشیات کے گروہوں سے لڑنے کے لیے فوج بھیجنے کی اجازت دیں۔ یہ ایک ایسی تجویز ہے جسے وہ پہلے مسترد کر چکی تھیں۔میکسیکو نے سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ اپنا تعاون بڑھایا ہے اور 2025 میں درجنوں منشیات فروشوں کو اپنے شمالی پڑوسی کے حوالے کیا ہے لیکن شینبوم نے بارہا اپنے ملک میں کسی بھی فوجی مداخلت کو مسترد کرنے کی تصدیق کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan