
جیتو پٹواری نے کہا- مارچ حکومت کی لاپرواہی کو بے نقاب کرے گا
بھوپال، 10 جنوری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے اندور خطے میں آلودہ پانی پینے سے ہوئی اموات کو لے کر ریاست کی سیاست گرما گئی ہے۔ اس معاملے میں ریاستی حکومت کو گھیرنے کے لیے کانگریس نے اندور میں بڑا مارچ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس ریاستی صدر جیتو پٹواری نے کہا کہ یہ مارچ عوام کی آواز بنے گا اور حکومت کی لاپرواہی کو سامنے لائے گا۔
کانگریس 11 جنوری، اتوار کو بڑا گنپتی سے راج واڑہ چوک واقع اہلیا بائی ہولکر کے مجسمہ کے مقام تک پیدل مارچ نکالے گی۔ اس دوران راج واڑہ پر خراج عقیدت جلسہ ہوگا، جس میں دیہی علاقے میں آلودہ پانی سے مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ پیدل مارچ کے ذریعے کانگریس کی مانگ ہوگی کہ میئر پشیہ متر بھارگو کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ وزیر کیلاش وجے ورگیہ سے استعفیٰ لیا جائے۔ مہلوکین کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے کی امدادی رقم دی جائے۔ معاملے کی عدالتی جانچ کر کے قصورواروں پر غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔
جیتو پٹواری نے کہا کہ اندور میں ہونے والا یہ مظاہرہ ریاستی حکومت کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا عوامی احتجاج ثابت ہوگا۔ آلودہ پانی سے ہوئی اموات کے لیے سیدھے طور پر انتظامیہ اور حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پٹواری نے غیر جانبدارانہ جانچ کی مانگ کی۔ ریاستی کانگریس صدر نے کہا کہ اندور سمیت آس پاس کے علاقوں میں طویل وقت سے پانی کی سپلائی کا نظام بدحال ہے، باوجود اس کے حکومت نے وقت رہتے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لاپرواہی کا خمیازہ بے قصور شہریوں کو اپنی جان دے کر چکانا پڑا۔
کانگریس نے مانگ کی ہے کہ پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی عدالتی جانچ کرائی جائے، قصورواروں پر سخت کارروائی ہو اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔
پٹواری نے یہ بھی کہا کہ جب تک متاثرین کو انصاف نہیں ملے گا، تب تک کانگریس سڑکوں پر جدوجہد کرتی رہے گی۔ مارچ کو لے کر کانگریس تنظیم نے وسیع تیاری شروع کر دی ہے۔ ریاستی اور ضلع سطح کے رہنماوں کو اندور پہنچنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ مارچ صرف احتجاج نہیں، بلکہ عوامی صحت اور جوابدہی کی لڑائی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن