
واشنگٹن،10جنوری(ہ س)۔گرین لینڈ کی سیاسی جماعتوں نے ہفتہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جزیرہ پر کنٹرول کے اقدامات کے خلاف اپنی یکجہتی کا اعلان کیا۔ گرین لینڈ کی پارلیمنٹ میں پانچوں جماعتوں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا:ہم امریکی نہیں بننا چاہتے، ہم ڈنمارکی نہیں بننا چاہتے، ہم گرین لینڈ کے باشندے رہنا چاہتے ہیں۔جماعتوں نے امریکہ سے اپیل کی کہ وہ ہمارے ملک کی حقارت بند کرے اور زور دیا کہ گرین لینڈ کا مستقبل صرف گرین لینڈ کے عوام طے کریں۔اس سے قبل ''فنانشل ٹائمز'' کے مطابق ایک سروے جسے ''ویریان ''نے کرایا، اس سے پتہ چلا کہ گرین لینڈ کے 85 فیصد باشندے امریکی شہری نہیں بننا چاہتے۔
سروے کے مطابق گرین لینڈ کے زیادہ تر لوگ امریکی شہریت نہیں لینا چاہتے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ڈنمارک میں معیارِ زندگی بہت بہتر ہے۔ علاوہ ازیں جزیرے کے باشندے امریکہ میں جرائم کی سطح اور مہنگی طبی سہولیات کے حوالے سے بھی فکرمند ہیں۔امریکی صدر نے جمعہ کو دوبارہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اپنی کوشش کا اعلان کیا اور کہا کہ امریکہ کو کارروائی کرنی چاہیے تاکہ چین یا روس اس اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرے پر قابو نہ پا سکیں، جو شمالی قطب میں واقع ہے۔وائٹ ہاو¿س میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن گرین لینڈ کے بارے میں ''کچھ کرے گا ''، چاہے دوسرے اسے پسند کریں یا نہ کریں۔انہوں نے کہا:اگر ہم نے یہ نہیں کیا تو روس یا چین گرین لینڈ پر قابو پا لیں گے اور ہم یہ قبول نہیں کریں گے کہ روس یا چین ہمارے پڑوسی ہوں۔انہوں نے مزید کہا: میں ایک آسان طریقے سے معاہدہ کرنا چاہتا ہوں، لیکن اگر آسان طریقہ ممکن نہ ہوا تو ہم مشکل طریقہ اختیار کریں گے۔
ٹرمپ نے بار بار کہا کہ وہ ڈنمارک کے زیر انتظام اس جزیرے کو، جو نیٹو کا رکن ہے، امریکی کنٹرول میں لانا چاہتے ہیں، اس کی اسٹریٹجک اہمیت اور علاقے میں روسی اور چینی جہازوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے۔ان کے بیانات نے خدشات پیدا کر دیے، کیونکہ انہوں نے عسکری کارروائی یا اقتصادی دباو¿ کے امکانات کو خارج نہیں کیا۔گرین لینڈجو زیادہ تر برف سے ڈھکا ہوا ہے، کی آبادی تقریباً 57 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan