
جموں، 10 جنوری (ہ س)۔
جموں و کشمیر کانگریس نے مرکز کی پالیسیوں کے خلاف ریاستی درجہ کی بحالی اور منریگا کے خاتمے کے فیصلے پر احتجاجاً ڈیڑھ ماہ طویل عوامی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہم کو منظم اور مؤثر بنانے کے لیے پارٹی نے جموں و کشمیر کے 20 اضلاع میں 110 سے زائد کوآرڈینیٹر مقرر کیے ہیں۔پارٹی قیادت کے مطابق یہ مہم بلاک سطح تک چلائی جائے گی تاکہ عوام کے مختلف طبقات تک براہِ راست رسائی حاصل کی جا سکے۔ کانگریس کے تمام ضلع صدور اتوار کے روز اپنے اپنے اضلاع میں پریس کانفرنسیں کر کے مہم کا باقاعدہ آغاز کریں گے، جبکہ 12 جنوری کو ضلع سطح پر احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔
ریاستی صدر طارق حمید قرا نے پارٹی ہیڈکوارٹر شہیدی چوک جموں میں سینئر رہنماؤں کے اجلاس کے دوران کہا کہ مرکز کی جانب سے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال نہ کرنا اور منریگا اسکیم کو ختم کرنا عوامی مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی دونوں ایشوز پر بیک وقت جدوجہد کرے گی اور ڈیڑھ ماہ تک مختلف سطحوں پر احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ضلع میں پانچ سے چھ کوآرڈینیٹر مقرر کیے گئے ہیں جو مہم کی نگرانی کریں گے اور اسے زمینی سطح پر کامیاب بنانے کے لیے پارٹی کارکنان اور عوام کو متحرک کریں گے۔کانگریس کے چیف ترجمان رویندر شرما نے کہا کہ کوآرڈینیٹروں کی تقرری کا بنیادی مقصد پارٹی مہم کو عوامی سطح پر مضبوط بنانا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اپنی آواز پہنچانا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر