
چیف سکریٹری نے آیوش مشن کے تحت جاری کاموں کی پیشرفت کا جائزہ لیا
جموں،10 جنوری (ہ س)۔
جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری اٹل ڈلو نے آج نیشنل آیوش مشن کے تحت جاری کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں آیوش خدمات کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کی تشکیل اور عوامی رسائی سے متعلق اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا، جن کا مقصد جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں آیوش پر مبنی صحت سہولیات کو مضبوط بنانا ہے۔ اجلاس میں سکریٹری صحت و طبی تعلیم، پرنسپل جی ایم سی سرینگر، کمشنر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن، ڈائریکٹر ہیلتھ کشمیر و جموں، ڈائریکٹر آیوش اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔ چیف سکریٹری کو آگاہ کیا گیا کہ یونین ٹیریٹری میں قائم 523 آیوشمان آروگیہ مندر (آیوش) 31 مارچ 2025 سے مکمل طور پر فعال ہیں، جہاں آیوش اصولوں کے تحت مختلف فلاحی علاج اور مریضوں کی نگہداشت کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے بتایا گیا کہ کولگام کے چوالگام میں قائم 50 بستروں پر مشتمل انٹیگریٹڈ آیوش اسپتال مکمل ہو چکا ہے اور پوری طرح فعال ہے۔ اس اسپتال میں سال 2024-25 کے دوران 12,852 جبکہ 2025-26 میں دسمبر 2025 تک 5,546 مریضوں نے او پی ڈی خدمات حاصل کیں۔ اسپتال سے متعلق اضافی کاموں، بشمول لینڈ اسکیپنگ، ہربل گارڈن اور دیگر سہولیات کے لیے 105 لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔
اسی طرح کٹھوعہ کے بلاور میں 50 بستروں پر مشتمل انٹیگریٹڈ آیوش اسپتال کا تقریباً 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ فِنشنگ کے کام جاری ہیں۔ اس منصوبے کے لیے 70 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے اور اسے مارچ 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ جموں کے گھڑی گڑھ میں 10 بستروں پر مشتمل انٹیگریٹڈ آیوش اسپتال سب سینٹر لوئر گھڑی گڑھ کی عمارت میں فعال کر دیا گیا ہے، جہاں 2024-25 کے دوران 7,609 اور 2025-26 میں دسمبر 2025 تک 4,713 مریضوں کو او پی ڈی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اضافی بلاک کی تعمیر اور عملے کی تعیناتی کے لیے 122.50 لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔
آیوش پبلک ہیلتھ پروگرامز کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ کئی شعبوں میں اہداف سے زیادہ کارکردگی سامنے آئی ہے۔ ہڈیوں اور پٹھوں کی بیماریوں کی روک تھام و علاج کے قومی پروگرام کے تحت 62 یونٹس فعال کیے گئے ہیں، جن میں 59,628 افراد کی اسکریننگ اور 48,576 مریضوں کا آیوش طریقہ علاج کیا گیا۔ ڈائریکٹر آیوش ڈاکٹر سریش شرما نے اجلاس کو بتایا کہ زچگی اور نومولود صحت سے متعلق پروگرام کے تحت 33 یونٹس، اسکولی صحت کے لیے آیور ویدیا کے تحت 40 یونٹس اور فالج زدہ و تیمارداری کے لیے 40 یونٹس فعال ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بزرگ شہریوں کے لیے ویو مترا پروگرام 22 یونٹس کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ موبائل میڈیکل یونٹس کے ذریعے دور دراز علاقوں میں آیوش خدمات کو وسعت دی جا رہی ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ آیوشمان آروگیہ مندروں کے ذریعے یوگا سیشنز، او پی ڈی مشاورت، ادویات کی تقسیم، غیر متعدی امراض کی اسکریننگ اور عوامی بیداری پروگراموں کے ذریعے لاکھوں افراد مستفید ہو چکے ہیں، جو عوام میں آیوش خدمات کی بڑھتی قبولیت کا مظہر ہے۔چیف سکریٹری نے تمام جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے، فنڈز کے مؤثر استعمال اور آیوش خدمات کو مرکزی صحت نظام سے مزید مربوط کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آیوش احتیاطی، فروغی اور جامع صحت نگہداشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ہدایت دی کہ عوام کو سستی، معیاری اور قابل رسائی آیوش صحت سہولیات فراہم کرنے کے لیے رفتار برقرار رکھی جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر