
واشنگٹن،10جنوری(ہ س)۔برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت تمام آپشنز پر غور کر رہی ہے جن میں برطانیہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پابندی کا امکان بھی شامل ہے۔ یہ بات انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ٹول’ گروک‘ کے ذریعے لوگوں کی رضامندی کے بغیر نازیبا تصاویر تیار کیے جانے کے تناظر میں کہی۔یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایلون مسک کے ملکیتی اس پلیٹ فارم کو عالمی سطح پر سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے، کیونکہ تصویری ایڈٹنگ کے ٹولز کے ذریعے صارفین حقیقی افراد کی نازیبا ڈیجیٹل تصاویر تیار کر رہے ہیں، جن میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔
کیر اسٹارمر نے ان اقدامات کو شرمناک، گھناو¿نے اور ناقابل قبول قرار دیا اور ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ ’ایکس‘ کو فوری طور پر اس صورتحال پر قابو پانا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات غیر قانونی ہیں اور برطانوی حکومت اس حوالے سے کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی۔برطانوی وزیراعظم کے دفتر کے ایک ذریعے نے بھی تصدیق کی ہے کہ پلیٹ فارم کے خلاف سخت ضابطہ کاری کا آپشن بدستور موجود ہے اور تاحال ’ایکس‘ کے خلاف کسی قانونی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب ’سی بی ایس‘ نیوز نے اپنی جانچ میں تصدیق کی ہے کہ گروک ٹول نے صارفین کی درخواست پر خواتین کی تصاویر میں رد و بدل کر کے انہیں غیر مناسب لباس میں دکھایا، جن میں امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ جیسی معروف شخصیات بھی شامل تھیں۔اس ٹول نے اس سے قبل اعتراف کیا تھا کہ حفاظتی معیارات میں خامیوں کے باعث کم عمر بچوں کی غیر قانونی تصاویر تیار ہوئیں، جس کے بعد کمپنی نے اعلان کیا کہ تصاویر بنانے کی سہولت صرف ’فیس‘ ادا کرنے والے صارفین تک محدود کر دی جائے گی۔ کمپنی کے مطابق اس اقدام کا مقصد صارفین کو روکنا ہے کیونکہ ان کی درخواستیں ان اکاو¿نٹس سے منسلک ہوں گی جو پہلے ہی ذاتی اور مالی معلومات سے جڑے ہوتے ہیں۔برطانوی حکومت نے اس فیصلے کو تشدد اور ہراسانی کے متاثرین کے لیے توہین آمیز قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام مسئلے کی جڑ کو حل کرنے کے بجائے غیر قانونی مواد تیار کرنے کی سہولت کو ایک بامعاوضہ سروس میں بدل دیتا ہے۔برطانیہ کے انٹرنیٹ سیفٹی قانون کے مطابق کسی کی اجازت کے بغیر ذاتی اور نجی تصاویر کا اشتراک ایک فوجداری جرم ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اس مواد کو پیشگی بنیادوں پر ہٹانے کے پابند ہیں۔قانون پر عملدرآمد میں ناکامی کی صورت میں میڈیا ریگولیٹر اوفکوم کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ بھاری جرمانے عائد کرے یا ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والوں اور مشتہرین کو اس پلیٹ فارم سے تعاون سے روک دے، جس کے نتیجے میں برطانیہ میں ایکس کی سرگرمیاں یا منافع حاصل کرنے کی صلاحیت عملاً ختم ہو سکتی ہے۔عالمی سطح پر اس معاملے پر امریکہ میں بھی ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے ان تصاویر کو متاثرین کی نجی زندگی اور وقار کے لیے خطرہ اور قانون کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ کانگریس کی رکن آنا پولینا لونا نے خبردار کیا ہے کہ اگر لندن نے ایکس پر پابندی عائد کی تو وہ برطانیہ اور خود کیر اسٹارمر کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کریں گی، ان کے بقول یہ اقدام آزادی اظہار پر قدغن کے مترادف ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan