شیئر کاروبار کے خسارے نے بنایا مجرم، بیٹے نے ہی 15 لاکھ کی چوری کی
شیئر کاروبار کے خسارے نے بنایا مجرم، بیٹے نے ہی 15 لاکھ کی چوری کی پپلانی پولیس نے 24 گھنٹے میں سنسنی خیز انکشاف کیا بھوپال، 10 جنوری (ہ س)۔ شیئر کاروبار میں مسلسل خسارہ اور اس پر چڑھتا قرض جب حد سے گزر گیا، تو ایک بیٹے نے پیسوں کی ضرورت پوری ک
کرائم فائل فوٹو


شیئر کاروبار کے خسارے نے بنایا مجرم، بیٹے نے ہی 15 لاکھ کی چوری کی

پپلانی پولیس نے 24 گھنٹے میں سنسنی خیز انکشاف کیا

بھوپال، 10 جنوری (ہ س)۔

شیئر کاروبار میں مسلسل خسارہ اور اس پر چڑھتا قرض جب حد سے گزر گیا، تو ایک بیٹے نے پیسوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اپنے ہی گھر کو نشانہ بنا ڈالا۔ ماں کے قیمتی زیورات پر نظر رکھنے والے اسی بیٹے نے سازش کرکے چوری کی واردات کو انجام دیا، لیکن پپلانی پولیس کی مستعدی اور فوری کارروائی نے 24 گھنٹے کے اندر پورے معاملے کا انکشاف کر دیا۔

ہفتہ کو پولیس سے ملی جانکاری کے مطابق، یہ معاملہ راجدھانی بھوپال کے پپلانی تھانہ علاقے کے کلپنا نگر کا ہے، جہاں رہنے والی 52 سالہ سنگیتا بلورے نے تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ نامعلوم چور نے ان کے گھر کا تالا اور چٹخنی توڑ کر سونے چاندی کے قیمتی زیورات چوری کر لیے ہیں۔ چوری شدہ زیورات کی کل قیمت تقریباً 15 لاکھ روپے بتائی گئی تھی۔ واقعے کے بعد علاقے میں ہڑکمپ مچ گیا اور اسے ایک منصوبہ بند چوری سمجھی جا رہی تھی۔

شکایت ملتے ہی پپلانی تھانہ پولیس نے جرم درج کر تفتیش شروع کی۔ تھانہ انچارج انسپکٹر چندریکا سنگھ یادو کی قیادت میں ایک خصوصی پولیس ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے سب سے پہلے جائے وقوعہ کا باریکی سے معائنہ کیا اور آس پاس نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے فوٹیج کھنگالے۔ حالانکہ کسی بھی کیمرے میں کوئی بیرونی مشکوک شخص نظر نہیں آیا، جس سے پولیس کا شک اور گہرا ہونے لگا۔ اس کے بعد پولیس نے گھر کے سبھی ممبران سے علیحدہ علیحدہ پوچھ گچھ شروع کی۔ پوچھ گچھ کے دوران فریادیہ کا بڑا بیٹا اشون بلورے پولیس کو مشکوک معلوم ہوا۔ سوالوں کے جواب میں اس کا رویہ غیر معمولی تھا اور وہ تسلی بخش جواب نہیں دے پا رہا تھا۔ ساتھ ہی اس کی گھبراہٹ نے پولیس کے شک کو اور مضبوط کر دیا۔

پولیس نے جب تکنیکی اور نفسیاتی طریقے سے پوچھ گچھ کی، تو بالآخر ملزم ٹوٹ گیا اور اس نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ ملزم نے بتایا کہ وہ طویل وقت سے شیئر کاروبار میں سرگرم تھا۔ شروعات میں کچھ منافع ہوا، لیکن بعد میں لگاتار خسارہ ہونے لگا۔ خسارے کی بھرپائی کے لیے اس نے ادھار لیا اور دھیرے دھیرے وہ بھاری قرض میں ڈوب گیا۔ قرض چکانے کا دباو اتنا بڑھ گیا کہ اس نے غلط راستہ اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔ ملزم نے بتایا کہ اس نے پوری منصوبہ بندی کر کے اپنے ہی گھر میں چوری کی واردات کی جھوٹی کہانی رچی، تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہو۔ اس نے خود ہی گھر کا تالا اور چٹخنی توڑی، الماری میں رکھے سونے چاندی کے زیورات نکالے اور انہیں چھپا دیا۔

ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے چوری کردہ سبھی زیورات برآمد کر لیے ہیں۔ برآمد سامان میں سونے کے ہار، چوڑیاں، انگوٹھیاں اور چاندی کے زیورات شامل ہیں۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس افسران نے بتایا کہ شہر میں چوری کی بڑھتی وارداتوں پر موثر کنٹرول کے لیے پولیس کمشنر اربن کی ہدایت پر سختی برتی جا رہی ہے۔ اسی کے تحت ایڈیشنل پولیس کمشنر (لاء اینڈ آرڈر) اور ڈپٹی کمشنر پولیس زون-2 کی رہنمائی میں فوری کارروائی کر اس معاملے کو حل کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande