ایم پی کے اندور میں آلودہ پانی پینے سے مہلوکین کی تعداد 14 تک پہنچی، 162 لوگ اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج
وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے چار مہلوکین کے لواحقین کو 2-2 لاکھ روپے کے چیک دیے
اندور میں آلودہ پانی سے بیمار لوگ اسپتال میں داخل


ایڈیشنل چیف سکریٹری نے کیا علاقے کا دورہ


وزیر اعلیٰ اندور پہنچ کر متاثرین سے بات کرتے ہوئے فائل فوٹو


وزیر اعلیٰ اندور پہنچ کر متاثرین سے بات کرتے ہوئے فائل فوٹو


اندور، یکم جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے اندور شہر کے بھاگیرتھ پورا علاقے میں آلودہ پانی پینے سے بیمار ہونے والے لوگوں کی تعداد کے ساتھ ہی مہلوکین کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ جمعرات کو ایک مریض کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 14 ہو گئی ہے۔

اب تک ایسے 2456 مریضوں کی شناخت کی جا چکی ہے، جن میں سے 162 مریض اسپتال میں داخل ہیں۔ ان میں سے 26 مریض زندگی اور موت کے درمیان آئی سی یو میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ آج صبح وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے سات مہلوکین کے لواحقین کو دو دو لاکھ روپے کے چیک دیے۔

آج اندور میں آلودہ پانی سے 14 ویں موت ہوئی۔ مہلوک کا نام اروند (43) ولد ہیرا لال رہائشی کلکرنی بھٹہ ہے۔ وہ گزشتہ اتوار کو بھاگیرتھ پورا میں کام کرنے کے لیے آیا تھا، تبھی طبیعت خراب ہو گئی اور وہ گھر لوٹ گیا۔ اس پر گھر پر رہ کر ہی دوائیاں لے رہا تھا۔ اس کے بعد لواحقین اسے لے کر ایک پرائیویٹ اسپتال پہنچے، جہاں علاج کے دوران موت ہو گئی۔ اس سے بدھ دیر رات بھاگیرتھ پورا علاقے کے 13 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ان میں ارمیلا یادو (60)، نند لال پال (75)، اما کوری (31)، منجولا (74)، تارا بائی کوری (70)، گومتی راوت (50)، سیما پرجاپت (50)، جیون لال بریڈے (80)، اویانا ساہو (5 ماہ)، سنتوش بگولیا، اشوک لال پنوار، سمترا بائی اور شنکر بھایا (70) شامل ہیں۔

بھاگیرتھ پورا علاقے میں اب بھی نئے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ شہر کے 14 سرکاری اور نجی اسپتالوں میں علاج کیا جا رہا ہے۔ ابھی آلودہ پانی سے متاثرہ 162 لوگ اسپتالوں میں داخل ہیں۔ ادھر، آج صبح وزیر کیلاش وجے ورگیہ بھاگیرتھ پورا علاقے میں پہنچے۔ اس دوران انہوں نے سات مہلوکین کے خاندانوں کو 2-2 لاکھ روپے کے چیک دیے۔ لواحقین نے وزیر کی موجودگی میں ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ کا چیک نہیں چاہیے۔

بھاگیرتھ پورا سے متصل دیگر علاقوں میں بھی انفیکشن پھیلنے کی اطلاع پر محکمہ صحت نے 21 ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جس میں ڈاکٹر، پیرامیڈیکل اسٹاف، اے این ایم اور آشا کارکن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 11 ایمبولینس بھی تعینات کی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے نجی اسپتالوں میں محکمہ صحت کے ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ ریونیو افسران کو تال میل کے لیے تعینات کیا ہے۔ اب تک 7992 گھروں کا سروے کیا گیا ہے۔

اس معاملے کو لے کر ایڈیشنل چیف سکریٹری سنجے دوبے نے جمعرات کو متاثرہ علاقے بھاگیرتھ پورا کا معائنہ کیا۔ ٹنکی اور گھروں سے پانی کے سیمپل لیے گئے۔ پانی سپلائی کے دوران کیے گئے پانی سپلائی کو خود ہاتھ میں لے کر چیک کیا اور رہائشیوں سے بات چیت کی۔ انہوں نے علاقے میں پانی سپلائی اور سیوریج کی لائن لیکیج کی مرمت کے لیے کیے گئے کاموں کا بھی جائزہ لیا اور بھاگیرتھ پورا واقع آیوشمان آروگیہ سنجیونی کلینک کا بھی معائنہ کیا۔

ادھر، وزیر کیلاش وجے ورگیہ کے متنازعہ بیان سامنے آئے ہیں۔ اندور میں آلودہ پانی سے ہوئی موت کو لے کر انہوں نے متنازعہ بیان دیا ہے۔ بدھ کی رات وزیر اعلیٰ کی میٹنگ کے بعد وزیر وجے ورگیہ نے میڈیا کے سوال پر بھڑکتے ہوئے کہا کہ ’چھوڑو یار تم فوکٹ سوال مت پوچھو...۔‘ اتنا ہی نہیں انہوں نے الفاظ کی حد پار کرتے ہوئے نازیبا زبان کا بھی استعمال کیا۔ جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ دراصل، وجے ورگیہ سے نجی اسپتالوں میں داخل مریضوں کے بل ادائیگی کو لے کر سوال کیا گیا۔ جس پر وہ بپھر گئے۔ حالانکہ، معاملہ طول پکڑتا دیکھ وزیر نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے ویڈیو پوسٹ کر وزیر کیلاش وجے ورگیہ سے استعفیٰ مانگا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر لکھا کہ اندور میں زہریلا پانی پینے سے اموات کی تعداد بڑھ رہی ہے، لیکن بی جے پی رہنماوں کی بدتمیزی اور تکبر جوں کا توں ہے۔ اس زہریلے پانی کی ذمہ داری پر سوال کیا جائے تو وزیر جی صحافی پر نازیبا الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو جی، نہ متاثرین کو مفت علاج مل رہا ہے، نہ ہمدردی، اوپر سے آپ کے وزیر نازیبا الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے وزیروں سے اخلاقیات کی بنیاد پر فوری استعفیٰ لیجیے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande