भारत

Blog single photo

اردو کے معروف ناول نگار مشرف عالم ذوقی کا انتقال ، اردودنیا سوگوار

19/04/2021

اردو کے معروف ناول نگار مشرف عالم ذوقی کا انتقال ، اردودنیا سوگوار
نئی دہلی ،19اپریل (ہ س )۔
 معروف فکشن نگار ،تنقید نگار اور حالات کی عکاسی کرنے والے مشہور ناول نگار مشرف عالم ذوقی کا انتقال ہو گیا۔مشرف عالم ذوقی کورونا وائرس سے متاثر تھے ، دہلی میں ایک پرائیویٹ اسپتال میں ان کا علاج چل رہا تھا جہاں ان کادل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔وہ گزشتہ کئی دنوں سے اسپتال میں داخل تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ اور ایک بیٹا ہے۔ ان کی عمر تقریباً 58 سال تھی۔ ان کا شمار 
 عصر حاضر کے معتبرناول نگار وں میں ہوتا تھا۔وہ ا ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی اپنی منفرد تخلیقات کے سبب وہ نمایاں شناخت رکھتے تھے۔
مشرف عالم ذوقی کی پیدائش 24نومبر 1963کو بہار کے ضلع آرہ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے مگدھ یونیورسٹی سے ایم اے کی سند حاصل کی تھی۔ انہوں نے ہمیشہ قلم سے رشتہ نبھایا۔ انہوں نے دہلی میں سچ بالکل سچ میں بھی کام کیا اور اخیر میں راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر بھی رہے۔ 
کم و بیش تین درجن سے زائد ان کی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں ۔ ان کے 14 ناول اور افسانے کے آٹھ مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ حالات حاضرہ میں ان کے لکھے گئے ناول ’مرگ انبوہ‘ اور ’مردہ خانے میں عورت‘ بہت مشہور ہوا ہے اور عالمی سطح پر ان کی پذیرائی ہوئی ہے ۔ ان کے ناولوں میں ’شہر چپ ہے‘ ’بیان‘،’مسلمان‘، ’لے سانس بھی آہستہ‘، ’آتش رفتہ کا چراغ‘،.’پروفیسر ایس کی عجیب داستان‘، ’نالہ شب گیر‘، ’ذبح‘، ’مرگ انبوہ‘اور ’مردہ خانے میں عورت‘ شامل ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے ہم عصر ادیبوں کے خاکے بھی لکھے۔ دیگر اصناف بھی انہوں نے کتابیں لکھیں۔ 1992میں ان کا پہلا ناول ’نیلام گھر‘ شائع ہوا تھا۔ ان کے انتقال سے اردو دنیا میں زبردست خلا پیدا ہوگیا ہے ، اردو دنیا سوگوار ہے اور اردو دنیا ایک بہترین افسانہ نگار اور ناول نگار سے محروم ہوگئی ہے۔
ہندوستھان سماچار


 
Top