भारत

Blog single photo

اسلام میں ایک قبر میں کئی لاشوں کی تدفین کی اجازت

19/04/2021

19/04/2021

علمائے کرام اور مفتیوں نے فتویٰ جاری کرکے ایک قبر میں کئی لاشوں کی تدفین کی اجازت دی
نئی دہلی،19اپریل(ہ س)۔
 کورونا وائرس وباءنے پورے ملک میں ایک خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس بیماری کی زد میں آکر روزانہ ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے لوگوں کو اس بیماری سے بچانے کے لئے طرح طرح کی کوششیں کررہی ہیں۔لیکن فی الحال اس بیماری سے نجات ملنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ملک بھر میں شمشان گھاٹ میں اور قبرستان میں لاشوں کے آخری رسوم کے لئے لائن لگائی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ قبرستان میں لاشوں کو دفن کرنے کے لئے جگہ کی کمی بھی ہوگئی ہے۔ جگہ کی کمی کو دیکھتے ہوئے علماءاور مفتیوں نے فتویٰ جاری کرکے ایک قبر میں کئی لاشوں کی تدفین کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ علماءاور مفتیوں کا کہنا ہے کہ وباءاور جنگ کے دوران شہید ہونے والوں کو ایک ہی قبر میں ایک ساتھ کئی لاشوں کی تدفین کرنے کی اسلامی شریعت نے اجازت دی ہے اور پیغمبر حضرت محمد ﷺ نے بھی اپنے دور میں ایک ہی قبر میں کم سے کم دو لاشوں کو دفن کرنے کا کام کیا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو کورونا وائرس وباءکے شکار ہونے والے مسلمانوں کی لاشوں کو ایک ہی قبر میں کئی لاشوں کی تدفین کرنے کا کام کرنا چاہئے۔
آل انڈیا علماءبورڈ کے جنرل سکریٹری علامہ بنائی حسنی کا کہنا ہے کہ شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ پیغمبر اسلام نے بھی اپنے دور میں ایسا کیا ہے جس کا ذکر حدیث میں ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو قبرستان میں جگہ کی قلت کو دیکھتے ہوئے ایک ہی قبر میں کم سے کم دو لاشوں کو یااور زیادہ لاشوں کو دفن کرنے میں کسی بھی طرح کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی شریعت میں ہر طرح کے ماحول اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر چلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو کورونا وائرس وباءکے دوران لاشوں کو دفن کرنے کو لے کر تشویش یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر جگہ کی قلت ہے تو کئی لاشوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا جاسکتا ہے۔
اسی سلسلے میں مفتی عبدالواحد قاسمی دارالافتا آن لائن فتویٰ دہلی نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میںانہوں نے احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وباءاور جنگ کے دوران شہید ہونے والوں کو ایک ہی قبر میں دفن کئے جانے کی روایت موجود ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام نے بھی اپنے وقت میں ایسا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیغمبر اسلام نے ایک ہی قبر میں دو لاشوں کو دفن کیا ہے اور انہوں نے لوگوں سے پوچھا تھا کہ اس میں سے قرآن زیادہ پڑا ہوا کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ والا ہے تو اسے انہوں نے نیچے لٹایا اور اس کے بعداوپر کم قرآن پڑھے ہوئے شخص کو دفن کردیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اسلام میں صاف طور سے اجازت دی گئی ہے تو مسلمانوں کو اس پر عمل کرنا چاہئے اور ایک ہی قبر میں کم سے کم دو اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دفن کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبرستان میں جگہ کی جو قلت ہے اس کو دور کیا جاسکتا ہے۔
ہندوستھان سماچارمحمدخان


 
Top