विदेश

Blog single photo

لبیک لبیک کا نعرہ اور پاکستان کے گرد مسائل کے گہراتے سائے

19/04/2021

لبیک لبیک کا نعرہ اور پاکستان کے گرد مسائل کے گہراتے سائے 


نئی دہلی ، 19 اپریل (ہ س)۔ پاکستان کے لئے 19 اپریل کی صبح ایک نئے مسئلہ کی شکل میں نمدار ہوئی۔ پورے پاکستان میں 'لیبک  لبیک' کا نعرہ گونج رہا ہے اور ہڑتال کا اعلان کردیا گیا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان نےفرانسیسی سفیر کو ملک بدرر کرنے کے لئے پُر تشدد احتجاج شروع کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ فرانس کے ایک استاذ نے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کا ایک خاکہ بنایا تھا ، جس پر عالم اسلام نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ 18 اپریل کی رات میں ، پاکستان کی مرکزی حکومت تحریک لبیک کے نمائندوں سے بات کرتی رہی ، لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔

ادھر ، گذشتہ شام کو یرغمال بنائے گئے 6 پولیس اہلکاروں کو بازیاب کرنے میں عمران حکومت کامیاب رہی ، لیکن وہ لاہور کے یتیم چوک سے تحریک لبیک کی کاروں کو ہٹانے میں ناکام رہی۔  یتیم چوک کے قریب لیبک کے کارکنوں نے تھانے پر حملہ کیا۔ ڈی ایس پی سمیت چھ پولیس اہلکار اغوا کرلئے۔ پولیس سے براہ راست تصادم میں درجنوں کارکن  اور اب تک کم از کم سات پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

ملک گیر ہڑتال کی حمایت پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کے سربرا مولانا فضل الرحمن نے بھی کی ہے۔ پی ڈی ایم پاکستان میں حزب اختلاف کی 11 جماعتوں کا اتحاد ہے جو عمران حکومت کے خاتمے کے لئے مہم چھیڑے ہوئے ہے۔ پی ڈی ایم نے نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی شامل کیا ہے۔

پاکستان نے میڈیا میں تحریک لبیک پاکستان کے دھرنے اور نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی ہے ، لیکن اس کی تحریک اور جدوجہد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے پہلے اس تحریک کو ایک تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے نکالنے کی تجویز کو 20 اپریل تک قومی اسمبلی میں لایا جائے گا ، لیکن بعد میں عمران حکومت پیچھے ہٹ گئی۔


پاکستان اس وقت متعدد محاذوں پر گھرا ہوا ہے۔ معاشی بدحالی کے درمیان قرضوں کے لئے آئی ایم ایف کی شرائط عائد کرنے کی وجہ سے افراط زر میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ وزرائے خزانہ کو تبدیل کرنے کے باوجود ، وہاں عام ضرورت کی چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے انہیں گرے لسٹ میں شامل کیا ہے ، جس کی وجہ سے انہیں دنیا کے دوسرے ممالک کی مالی مدد نہیں مل رہی ہے۔ افغان امن مذاکرات کے لئے ، امریکہ نے دوہرے معیار کا الزام لگا کر پاکستان پر دباؤ ڈالا ہے اور اب فرانس سے اس کے تنازعہ کے بعد ، یورپ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ایف اے ٹی ایف کا اگلا اجلاس فرانس کی سربراہی میں ہونا ہے۔ اس وقت ، پاکستان کے لئے ایک طرف کنواں اور دوسری طرف کھائی والی صورتحال ہے۔

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد



 
Top