भारत

Blog single photo

اطالوی مرینس معاملہ: ماہی گیروں کے اہل خانہ کے لئے معاوضہ کی رقم جمع نہیں ہونے پر سماعت ملتوی

19/04/2021

۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی سرزنش کی ، سماعت ایک ہفتہ کے لئے ملتوی 
نئی دہلی ، 19 اپریل (ہ س)۔ سپریم کو رٹ نے 2012میں کیرالہ کے دو ماہی گیروں کو مجرم سمجھ کر ہلاک کر دینے والے اٹلی کی دو بحری نوجوانوں پر بھارت میں چل رہے مقدمے کو بند کر نے کی مرکز کی مانگ پر سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کر دی۔ عدالت نے ماہی گیروں کے اہل خانہ کو معاوضے کے لئے 10 کروڑ روپے جمع نہ کروانے پر سماعت ملتوی کردی۔ سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت سے کہاکہ آپ پچھلے ہفتے جلدی میں تھے لیکن ہم جانتے ہیں کہ وزارتیں کیسے کام کرتی ہیں۔
گذشتہ 9 اپریل کو سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ اٹلی بین الاقوامی ٹریبونل کے حکم کے مطابق 10 کروڑ روپے معاوضہ ادا کررہا ہے۔ 7 اگست ، 2020 کو ، سپریم کورٹ نے کہا تھاکہ وہ 2012میں کیرالہ کے دو ماہی گیروں کو ڈاکوسمجھ کر ہلاک کر دینے والے اٹلی کے بحریہ کے نوجوانوں کے خلاف کیس متاثرین کے اہل خانہ کی بات سننے کے بعد ہی بند کرے گا۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی سربراہی میں بنچ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ متاثرہ افراد کے اہل خانہکے مناسب معاوضے کو یقینی بنائے۔
سماعت کے دوران مرکزکی جانب سے ، سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت نے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی ٹریبونل کے حکم کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیرالہ حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ آدتیہ ورما نے کہا کہ بین الاقوامی ٹریبونل کے حکم اور سپریم کورٹ کے پہلے کے حکم کے درمیان تضاد ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ بین الاقوامی ٹریبونل کے فیصلے پر اس وقت تک عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ گھریلو قانون میں تبدیلی نہیں کی جاتی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے مرکزی حکومت سے پوچھا تھا کہ وہ مقدمہ بند کرنے کے لئے ٹرائل کورٹ میں جانے کے بجائے براہ راست سپریم کورٹ میں کیوں آیا؟۔ ٹرائل کورٹ میں متاثرین کے اہل خانہ بھی فریق ہیں۔ سپریم کورٹ میں تو وہ فریق بھی نہیں ہیں۔
مرکزی حکومت نے 3 جولائی 2020 کو سپریم کورٹ سے زیر التوا کیس کو بند کرنے کے لئے کہا تھا۔ مرکز نے کہا تھا کہ بین الاقوامی ٹریبونل نے کہا ہے کہ بھارت کو اٹلی سے حرجانہ وصول کرنے کا حق ہے لیکن بحری جوانوں پر اٹلی میں مقدمہ چلے گا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے دونوں اطالوی بحریہ کے جوانوں کو اٹلی میں رہنے کی اجازت دی تھی۔ دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے سال 2012 میں ہندوستانی سمندری حدود میں کیرالہ کے ماہی گیروں کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا ، جبکہ ان مرینس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماہی گیروں کو بحری قزاق سمجھ کر گولی چلائی تھی۔ 
ہندوستھان سماچار


 
Top