پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پولیس چوکی پر حملے میں دو ایس ایچ اوز سمیت نو فوجی اور 15 عسکریت پسند ہلاک
اسلام آباد، 7 جولائی (ہ س)۔ پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے ضلع زیارت میں پیر کی رات دیر گئے ایک پولیس چوکی پر حملے میں دو سٹیشن ہاوس آفیسرز (ایس ایچ او) سمیت نو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد شروع کیے گئے مشترکہ سیکیورٹی آپریشن میں پن
پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں پولیس چوکی پر حملے میں دو ایس ایچ اوز سمیت نو فوجی اور 15 عسکریت پسند ہلاک


اسلام آباد، 7 جولائی (ہ س)۔ پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے ضلع زیارت میں پیر کی رات دیر گئے ایک پولیس چوکی پر حملے میں دو سٹیشن ہاوس آفیسرز (ایس ایچ او) سمیت نو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد شروع کیے گئے مشترکہ سیکیورٹی آپریشن میں پندرہ عسکریت پسند مارے گئے۔ حملہ آوروں نے پانچ پولیس اہلکاروں کو بھی اغوا کر لیا۔

زیارت سپرنٹنڈنٹ آف پولیس عبدالقدوس کے مطابق حملہ آوروں نے کچ منگی فیز 3 کے علاقے میں پولیس چوکی کو نشانہ بنایا۔ جیو نیوز اور دنیا نیوز نے اطلاع دی ہے کہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں میں منگی تھانے کے افسر محمد حسین اور کوس تھانے کے افسر صحبت خان شامل ہیں۔ حکام نے منگل کو بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان رات بھر شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ فوجیوں کی لاشوں کو زیارت کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچایا گیا۔ حملے کے بعد پورے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر اطلاعات شاہد رند نے بتایا کہ ضلع زیارت کے علاقے منگی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ کارروائی میں پندرہ دہشت گرد مارے گئے۔ آپریشن میں فرنٹیئر کور، بلوچستان پولیس، کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، سپیشل آپریشنز ونگ اور انسداد دہشت گردی فورس نے حصہ لیا۔

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہید پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے امن کو متاثر نہیں کر سکتے اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف ملک کے عزم کو کمزور کر سکتے ہیں۔ دریں اثنا، حملے نے زیارت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا، جس میں مقامی قبائل، ٹرانسپورٹرز اور ہلاک پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں نے شرکت کی۔ پولیس نے بتایا کہ مظاہرین نے بلوچستان کو پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ملانے والی اہم قومی شاہراہوں کو بند کر دیا جس سے سیکڑوں مسافر بسیں اور کارگو گاڑیاں پھنس گئیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande