
نئی دہلی، 5 مئی (ہ س)۔ کابینہ نے ملک میں ریلوے نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کے لیے 23,437 کروڑ روپے کے تین ملٹی- ٹریکنگ پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے۔ اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے منگل کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے ) نے ملک میں ریلوے نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کے لیے 23,437 کروڑ روپے کے تین ملٹی -ٹریکنگ پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے۔ ان پروجیکٹوں سے ہندوستانی ریلوے کے نیٹ ورک میں تقریباً 901 کلومیٹر کا اضافہ ہوگا۔
انہوں نے بتایاکہ منظور شدہ پروجیکٹوں میں ناگدا-متھرا تیسری اور چوتھی لائن، گنٹکل -واڑی تیسری اور چوتھی لائن اور برہول-سیتا پور تیسری اور چوتھی لائنیں شامل ہیں۔ ان پروجیکٹوں کو 2030-31 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان پروجیکٹوں سے ریلوے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، آپریشنل کارکردگی اور خدمات کی بھروسے میں بہتری آئے گی اور ٹریفک کی بھیڑ میں کمی آئے گی۔ ان پروجیکٹوں کو پی ایم-گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی اور لاجسٹکس کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ پروجیکٹ مدھیہ پردیش، راجستھان، اتر پردیش، کرناٹک، آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے 19 اضلاع کا احاطہ کریں گے اور تقریباً 4,161 گاو¿ں (تقریباً 83 لاکھ کی آبادی کے ساتھ) کو بہتر ریل رابطہ فراہم کریں گے۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ یہ پروجیکٹ بڑے سیاحتی مقامات جیسے مہاکالیشور مندر، رنتھمبور نیشنل پارک، کنو نیشنل پارک، کیولادیو نیشنل پارک، متھرا، ورنداون، منترالیم (سری راگھویندر سوامی مٹھ)، سری نیٹی کانتی انجنئے سوامی واری مندر (کاسا پورم )،شیام ناتھ مندر، نیمیشارنیہ (نیمسار) جیسے اہم سیاحتی مقامات تک رابطے کو بہتر بنائیں گے۔
اس کے علاوہ، ان راستوں پر کوئلہ، غذائی اجناس، سیمنٹ، کھاد اور اسٹیل جیسی ضروری اشیاءکی نقل و حمل میں بھی تیزی آئے گی، جس سے سالانہ تقریباً 60 ملین ٹن اضافی مال برداری کی گنجائش پیدا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ان پروجیکٹوں سے رسد اخراجات کم ہوں گے، تیل کی درآمدات میں کمی واقع ہوگی اور کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی جس سے ملک کے ماحولیاتی اہداف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد