اے آئی معیشت میں قیادت کی امریکی حکمت عملی
از: چاروی اروڑا دنیا بھر کی حکومتیں جہاں مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی تشکیل میں سرگرم ہیں، وہیں امریکہ خود کو مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری، ترقی اور تجارتی استعمال کے ایک بڑے عالمی مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ مارچ 2026 میں صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ نے م
اے آئی معیشت میں قیادت کی امریکی حکمت عملی 0


از: چاروی اروڑا

دنیا بھر کی حکومتیں جہاں مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی تشکیل میں سرگرم ہیں، وہیں امریکہ خود کو مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری، ترقی اور تجارتی استعمال کے ایک بڑے عالمی مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ مارچ 2026 میں صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے لیے ایک قومی پالیسی فریم ورک کا اعلان کیا، جس میں امریکہ کی بنیادی ترجیحات — اختراع، ضابطہ کاری اور معاشی ترقی — کو واضح طور پر متعین کیا گیا ہے۔

امریکی محکمۂ تجارت کی عالمی تجارتی انتظامیہ کے تجارتی فروغ کے ادارے، فارین کمرشل سروس (ایف سی ایس ) کے مطابق، یہ فریم ورک ” اختراع، مسابقت اور ذمہ دارانہ استعمال پر توجہ کے ساتھ مصنوعی ذہانت میں امریکہ کی قیادت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔“ ایف سی ایس کے ایک عہدیدار کے مطابق یہ فریم ورک ”صنعت کے لیے واضح پالیسی سمت فراہم کرتا ہے اور مصنوعی ذہانت کی ترقی اور تجارتی استعمال کی حمایت سے متعلق امریکی حکمت عملی کے تسلسل کا اشارہ دیتا ہے۔“

عالمی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ فریم ورک اس بات کا بھی اشارہ دیتا ہے کہ بین الاقوامی شراکت دار مصنوعی ذہانت کے امریکی بازار سے کس طرح وابستہ ہو سکتے ہیں ، جب کہ امریکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں اپنی قیادت کو مزید وسعت دینے کی کوشش کررہا ہے۔

ہندوستان میں فارین کمرشل سروس نئی دہلی، ممبئی، احمد آباد، کولکاتا، حیدرآباد، بینگلورو اور چنئی میں کام کرتی ہے ، جہاں وہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر تجارتی تعاون کو مضبوط بنانے اور امریکہ-ہند اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

پالیسی کو عملی شکل دینا

یہ فریم ورک صنعت سے مشاورت اور پالیسی کے عملی نفاذ کے لیے کی گئی سابقہ کوششوں کا تسلسل ہے۔ ایف سی ایس کے ایک عہدیدار نے وضاحت کی ”اکتوبر 2025 میں جاری ہونے والی ریکویسٹ فار انفارمیشن(آر ایف آئی ) اور اپریل 2026 میں اے آئی ایکسپورٹس پروگرام کے تحت شروع کی گئی کال فار پروپوزلس (سی ایف پی )کے ساتھ، یہ فریم ورک صنعت کو ساتھ لے کر پالیسی اہداف کو زمینی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ایک مرحلہ وار حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔“

عہدیدار کے مطابق، اس پالیسی کا مقصد امریکی بازار میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کے لیے زیادہ شفافیت اور اعتماد پیدا کرنا بھی ہے۔ ”مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی کے حوالے سے امریکہ کا زیادہ مربوط طریقۂ کار امریکی بازار سے وابستہ کمپنیوں کو زیادہ وضاحت اور پیش بینی فراہم کرتا ہے جس سے سرمایہ کاری ، بازار میں داخلے اور کاروباری توسیع کے لیے ایک مستحکم ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ امریکی صنعت کے ساتھ ٹیکنالوجی شراکت داریوں اور تعاون سمیت تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں بھی مدد دے گا۔“

عالمی اے آئی سرمایہ کاری کے لیے مسابقت

یہ فریم ورک امریکہ میں سرمایہ کاری اور توسیع کو فروغ دینے کے مقصد سے بھی ترتیب دیا گیا ہے۔ عہدیدار نے کہا ”ان مختلف اقدامات کے درمیان بہتر پالیسی ہم آہنگی امریکہ کی اے آئی ترجیحات کو واضح کرتی ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں کو اعتماد ملتا ہے، اختراع کے عمل میں تیزی آتی ہے اور اُن کمپنیوں کو مضبوط ترغیب ملتی ہے جو امریکہ کو اے آئی کی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں کے عالمی مرکز کے طور پر دیکھتے ہوئے وہاں اپنے کاروبار کو بڑھانا چاہتی ہیں۔“

امریکی حکومت کے وسیع تر اقدامات کا مقصد کمپنیوں کو امریکہ میں کاروباری مواقع کی نشاندہی میں مدد فراہم کرنا بھی ہے۔ امریکی محکمۂ تجارت اور اس کے سرمایہ کاری فروغ پروگرام سلیکٹ یو ایس اے کے ذریعے عالمی کمپنیاں بازار سے متعلق معلومات حاصل کر سکتی ہیں، ریاستی اور مقامی سرمایہ کاری اداروں سے رابطہ قائم کر سکتی ہیں اور وفاقی، ریاستی اور مقامی سطح پر موجود مواقع کا جائزہ لے سکتی ہیں۔ اپنے قیام سے اب تک سلیکٹ یو ایس اے 400 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کر چکا ہے اور امریکہ میں 2 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ ملازمتوں کی حمایت کر چکا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکی سبقت

یہ فریم ورک امریکی ٹیکنالوجی شعبے کی دو دیرینہ طاقتوں کو نمایاں کرتا ہے: دانشورانہ املاک کا تحفظ اور ماہر افرادی قوت تک رسائی۔ عہدیدار کے مطابق”دانشورانہ املاک کے مضبوط تحفظات اور باصلاحیت افرادی قوت امریکی اختراعی نظام کی بنیادی طاقتیں ہیں۔ یہ دونوں عناصر تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہیں، جدید ٹیکنالوجیز کے تجارتی استعمال کو ممکن بناتے ہیں اور کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت کی بدولت پیدا ہونے والی ندرت کو وسعت دینے کے لیے درکار اعلیٰ مہارت یافتہ افرادی قوت تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔“

وسیع تر پالیسی گفتگو میں مصنوعی ذہانت کا سہارا لے کر بنائے گئے مواد ، کاپی رائٹ اور ڈیجیٹل اے آئی سے بنائے گئے مواد، کاپی رائٹ اور ڈیجیٹل نقل جیسے نئے موضوعات بھی شامل ہیں، کیونکہ حکومتیں اور عدالتیں اب یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ تیزی سے ترقی کرتی اے آئی ٹیکنالوجی پر موجودہ قوانین کا اطلاق کیسے کیا جائے۔

عالمی اے آئی تعاون کا فروغ

سرمایہ کاری اوراختراع کے ساتھ ساتھ، یہ فریم ورک یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر اے آئی تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ ہندوستان سمیت عالمی شراکت داروں کے لیے، اے آئی ایکسپورٹس پروگرام ایک ایسے منظم طریقۂ کار کی نمائندگی کرتا ہے جس کے ذریعے امریکی قیادت میں ہونے والی اے آئی جدت میں صنعت کو شامل کیا جا رہا ہے۔

عہدیدار کے مطابق” ریکویسٹ فار انفارمیشن(آر ایف آئی ) سے لے کر اے آئی ایکسپورٹس پروگرام کے تحت کال فار پروپوزلز(سی ایف پی ) تک کا عمل بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ کنسورشیم پر مبنی ماڈلز کے تحت امریکی صنعت کے ساتھ کام کر سکتی ہیں اور عالمی استعمال کے لیے مکمل اے آئی حلوں کی تیاری اور عمل درآمد میں حصہ لے سکتی ہیں۔“

عہدیدار نے کہا”جیسے جیسے یہ فریم ورک نافذ ہوگا، متعلقہ فریقوں کو قانون سازی، ضابطوں اور اے آئی ایکسپورٹس پروگرام کی عملی پیش رفت پر توجہ دینی چاہیے۔ اہم نکات میں کنسورشیم کی تشکیل، برآمدات میں سہولت کے طریقے اور ایسے معیارات و اصول شامل ہیں جو امریکی قیادت میں قائم مصنوعی ذہانت والے نظاموں میں شرکت کے طریقۂ کار کو متاثر کریں گے۔“

بشکریہ: اسپَین میگزین

--------- -----------------

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande