حزب اللہ کے ایران کی حمایت میں پہنچنے کے بعد لبنان نے اپنے کچھ فوجیوں کو واپس بلا لیا۔
بیروت (لبنان)، 3 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے درمیان لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے ایران کی حمایت میں آنے کے بعد لبنانی حکومت چوکنا ہو گئی ہے اور اس نے اپنی کچھ فوج کو اگلے مورچوں سے ہٹا لیا ہے۔ ادھر اسرائیل نے حزب اللہ کے ٹھکا
حزب


بیروت (لبنان)، 3 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے درمیان لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے ایران کی حمایت میں آنے کے بعد لبنانی حکومت چوکنا ہو گئی ہے اور اس نے اپنی کچھ فوج کو اگلے مورچوں سے ہٹا لیا ہے۔ ادھر اسرائیل نے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر جوابی حملے تیز کر دیے ہیں جبکہ لبنانی حکومت نے اپنی خودمختاری اور قانونی کنٹرول برقرار رکھنے پر اصرار کیا ہے۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ لبنانی فوج نے منگل کو اسرائیلی سرحد کے ساتھ اپنے اگلے مورچوں سے فوجیوں کو واپس بلا لیا اور دوبارہ تعینات کر دیا۔

اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں بدستور سرگرم ہے اور حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کو سرحد پر پیش قدمی کرنے اور زیر کنٹرول علاقوں میں اسرائیلی برادریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔

حزب اللہ نے پیر کے روز شمالی اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے جو بظاہر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ ہے۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی میں حزب اللہ کے انٹیلی جنس ونگ کے سربراہ حسین مقلد کو نشانہ بنایا۔

دریں اثنا، جنوبی بیروت میں، فلسطینی اسلامی جہاد کے سینئر کمانڈر ادھم العثمان (41) اور حزب اللہ کی انٹیلی جنس برانچ کے سربراہ حسین مقلد راتوں رات ہونے والے حملوں میں مارے گئے۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ راکٹ داغے جانے سے ملک ایک خطرناک فوجی تصادم کی طرف لے جا سکتا ہے۔ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے کہا کہ لبنان کے قانونی فریم ورک سے باہر کوئی بھی فوجی کارروائی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور انہوں نے حزب اللہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے کر دیں اور اپنی سرگرمیاں قانونی فریم ورک تک محدود رکھیں۔

لبنانی فوج کی یہ تعیناتی اور حکومتی انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور حزب اللہ کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande