
۔فروری میں 9,731 کروڑ روپے کی وصولی ، جی ایس ٹی کی شرح کو آسان بنانے سے آمدنی میں اضافہ
- 75 اضلاع میں بزنس ڈائیلاگ پروگرام سے وصولیابی بڑھی، جی ایس ٹی اصلاحات، ای انوائس اور ریٹرن فائلنگ سے شفافیت بڑھی
لکھنو¿، 03 مارچ (ہ س)۔ یوگی حکومت نے گزشتہ نوبرسوں میں ریونیو وصولی کے معاملے میں نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ اس سلسلے میں، ریاستی محکمہ ٹیکس نے فروری کے مہینے میں 9,731 کروڑ روپے کا ریونیو وصول کرکے ایک قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ پچھلے سال کے مقابلے 352 کروڑ روپے زیادہ ہے۔ رواں مالی سال میں اب تک کل ایک لاکھ تین ہزار779 کروڑ روپے کا ریونیو جمع کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے 402 کروڑ روپے زیادہ ہے۔ یوگی حکومت کے ذریعہ جی ایس ٹی کی شرحوں کو معقول بنانے، ٹیکس نظام کو آسان بنانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی شفاف نظام کی وجہ سے آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔
اسٹیٹ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے جی ایس ٹی 2.0 کے تحت شرح کومعقول بنانے اور عمل کو آسان بنانے پر توجہ مرکوز کی۔ ٹیکس دہندگان کے لیے ای انوائس، ای وے بل، اور آن لائن ریٹرن فائل کرنے کے نظام کو مضبوط بنا کر تعمیل کو آسان بنایا گیا ہے۔ اس نے ٹیکس چوری کو روکا ہے اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ریاست کے تمام 75 اضلاع میں ٹریڈر ڈائیلاگ پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں 10ہزار سے زیادہ تاجروں نے شرکت کی۔ ان پروگراموں میں جی ایس ٹی اصلاحات، ریٹرن فائلنگ، ای انوائس، اور ای وے بل کے مسائل جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا تھا۔ جی ایس ٹی شراکت داروں اور مختلف تجارتی تنظیموں کے ساتھ ہیڈ کوارٹر کی سطح پر میٹنگیں بھی کی گئیں۔ اس کے علاوہ ، زون کی سطح پر عہدیداروں اور تجارتی نمائندوں کے درمیان رابطہ کاری کی میٹنگوں نے مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا۔
اسٹیٹ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) پر مبنی ریٹرن کی اسکروٹنی (جانچ) کا نظام نافذ کیا۔ اس کے تحت 1.59 لاکھ سے زیادہ ٹیکس دہندگان کے 48,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے لین دین کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ یہ ڈیٹا اہلکاروں کے لاگ ان پر دستیاب کرایا گیا تھا، جس سے مشتبہ معاملوں کی شناخت اور فوری کارروائی ممکن ہوئی۔ عدالتی احکامات کی تعمیل اور نظرثانی کے عمل کو بھی ڈیجیٹل طریقے سے شروع کیا گیا، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوا اور انسانی مداخلت کی ضرورت کو کم کیا گیا۔ ریونیو میں ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے بوگس فرموں کے خلاف بھرپور مہم چلائی گئی۔ محکمہ نے 2,166 کروڑ روپے کی ان پٹ ٹیکس کریڈٹ ( آئی ٹی سی ) کی دھوکہ دہی کا پردہ فاش کیا۔ اس معاملے میں کل 345 ایف آئی آر درج کی گئیں، جن میں 228 مرکزی اور 117 ریاستی سطح کی کارروائیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ، 86 ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور 137 کروڑ روپے کے آئی ٹی سی کو بلاک کیا گیا۔ انفورسمنٹ اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹس کی فعال کوششوں کی وجہ سے اب تک 1,642 کروڑ روپے سے زیادہ کی وصولی کی جا چکی ہے۔
ریاستی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ ریاستی ٹیکس محکمہ نے بقایا واجبات کی وصولی میں بھی اہم پیش رفت کی ہے۔ جی ایس ٹی کے تحت 2,406 کروڑ روپے اورویٹ کے تحت 711 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔مجموعی طور پر 3,117 کروڑ تک کی وصولی ہوئی ، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 1,939 کروڑ کا اضافہ ہے۔ اینٹوں کے بھٹے کی صنعت سے وابستہ ٹیکس دہندگان سے اعلیٰ سطحی میٹنگ بھی کی گئیں۔ جنوری 2026 میں، اس شعبے سے آمدنی 47.62 کروڑ تک پہنچ گئی، جو دسمبر کی آمدنی سے دگنی ہے۔ اسٹیٹ ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے اہلکاروں کے لیے ہنر مندی کے پروگرام بھی منعقد کیے ہیں۔ 2025-26 میں، مختلف موضوعات پر 55 سیشن منعقد کیے گئے جیسے کہ فیصلہ، ٹیکس آڈٹ، اور نفاذ، 1,424 اہلکاروں کو تربیت دی گئی۔ ریاستی ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے یوگی حکومت کی شفافیت، تکنیکی اختراع، سختی سے نفاذ، اور بات چیت پر مبنی پالیسیوں کے امتزاج کے ذریعے اہم نتائج حاصل کیے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد