
نئی دہلی،03مارچ(ہ س)۔اردو ادب کی ممتاز افسانہ نگار اور ناول نگار جیلانی بانو کے انتقال کی خبر نے ادبی حلقوں کو سوگوار کر دیا ہے۔ اردو کے عالمی شہرت یافتہ ادارے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے تعزیتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا جیلانی بانو اردو فکشن کی ا±ن نمایاں شخصیات میں شمار ہوتی تھیں جنہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے سماجی مسائل، عورت کے مقام، طبقاتی ناہمواری اور انسانی جذبات کو نہایت مو¿ثر انداز میں پیش کیا۔جیلانی بانو کی ادبی خدمات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ان کے افسانے اور ناول اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں نہ صرف معاشرتی جبر اور ناانصافی کو موضوع بنایا بلکہ عورت کی داخلی کشمکش اور خود شناسی کو بھی بڑی باریکی سے اجاگر کیا۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پراثر تھا، جس میں حقیقت نگاری اور فکری گہرائی نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کا جانا پوری اردو دنیا کے لیے شدید صدمے کا باعث ہے۔ میں اپنی اور ادارے کی جانب سے ان کے تمام لواحقین کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا جیلانی بانو اردو کی صاحب اسلوب ادیبہ تھیں ان کی معروف تصانیف میں ناول ’ایوانِ غزل‘ کو خاص شہرت حاصل ہوئی، جسے ادبی حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔
اس کے علاوہ ان کے متعدد افسانوں کے مجموعے بھی شائع ہوئے جنہوں نے قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف اعزازات سے بھی نوازا گیا، جن میں حکومت ہند کی جانب سے دیا جانے والا باوقار اعزاز پدم شری بھی شامل ہے۔ ان کے انتقال سے اردو ادب ایک عہد ساز قلم کار سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کی وفات اردو فکشن کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais