خام تیل سے لدا جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر ممبئی کی بندرگاہ پر بحفاظت پہنچ گیا
نئی دہلی، 12 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازعات کے درمیان سعودی عرب سے خام تیل لے جانے والا ایک بڑا جہاز بحفاظت ممبئی بندرگاہ پر پہنچ گیا ہے۔ یہ جہاز، تقریباً 135,335 میٹرک ٹن خام تیل لے کر، آبنائے ہرمز کے راستے ہندوستان پہنچنے والا پہل
تیل


نئی دہلی، 12 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازعات کے درمیان سعودی عرب سے خام تیل لے جانے والا ایک بڑا جہاز بحفاظت ممبئی بندرگاہ پر پہنچ گیا ہے۔ یہ جہاز، تقریباً 135,335 میٹرک ٹن خام تیل لے کر، آبنائے ہرمز کے راستے ہندوستان پہنچنے والا پہلا خام تیل کا ٹینکر ہے۔ یہ جہاز ایک ایسے وقت میں ہندوستان پہنچا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے سمندری راستوں کو خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ممبئی پورٹ اتھارٹی کے ڈپٹی کنزرویٹر پروین سنگھ نے بتایا کہ لائبیریا کے جھنڈے والا سویز میکس جہاز، جس کا نام شین لونگ ہے، بدھ کو دوپہر ایک بجے ممبئی بندرگاہ پر 135,335 میٹرک ٹن سے زیادہ سعودی خام تیل لے کر پہنچا۔ ٹینکر کو خالی کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور تقریباً 36 گھنٹے میں مکمل ہو جائے گا۔ خام تیل کو ممبئی کے مہول علاقے میں ایک ریفائنری میں بھیجا جائے گا، جہاں اسے پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی جیسی مصنوعات میں پروسیس کیا جائے گا۔

ہندوستانی کیپٹن سکشانت سنگھ سندھو کی قیادت میں یہ جہاز یکم مارچ کو راس تنورا بندرگاہ سے روانہ ہوا اور 8 مارچ کو آبنائے ہرمز سے گزرا۔ اس جہاز میں عملے کے 29 ارکان سوار تھے، اس کا تعلق شین لونگ شپنگ لمیٹڈ سے ہے اور اسے ایتھنز میں قائم ڈائناکام ٹینکر مینجمنٹ کمپنی چلاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے سمندری راستوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، کیونکہ ملک کی نصف سے زیادہ خام تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے آتی ہے۔ اس وقت مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازعات کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ بین الاقوامی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ تیل کی محفوظ سپلائی کو برقرار رکھنا بھارت کے لیے انتہائی اہم ہو گیا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande