جھارکھنڈ میں دوسرے مرحلے میں ایک درجن سے زیادہ امیدوار کروڑ پتی
رانچی، 19 مئی (ہ س)۔ لوک سبھا انتخابات کے پانچویں مرحلے میں اور جھارکھنڈ کے حساب سے دوسرے مرحلے م
جھارکھنڈ میں دوسرے مرحلے میں ایک درجن سے زیادہ امیدوار کروڑ پتی


رانچی، 19 مئی (ہ س)۔

لوک سبھا انتخابات کے پانچویں مرحلے میں اور جھارکھنڈ کے حساب سے دوسرے مرحلے میں تین پارلیمانی سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ اس میں چترا، ہزاری باغ اور کوڈرما میں 20 مئی کو ووٹنگ ہونی ہے۔ ان تین سیٹوں کے لیے کل 54 امیدوار میدان میں ہیں۔

انتخابی میدان میں کھڑے ہونے والے ان امیدواروں میں ایک درجن سے زائد ایسے ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت کروڑوں میں ہے، جو عوام میں سیاسی جنگ جیتنے کے لیے آئے ہیں۔ ان امیدواروں کے ذریعہ داخل کردہ ان کے خود کے حلف نامے بتانے کے لیے کافی ہیں یہ آج کے دھن کبیر ہیں۔ جن کی جائیداد نہ صرف اپنے نام پر بلکہ ان کی بیوی اور بیٹوں اور بیٹیوں کے نام بھی ظاہر کی گئی ہے جو کروڑوں میں ہے۔

الیکشن کمیشن میں داخل کیے گئے حلف نامے کے مطابق چترا میں 22، ہزاری باغ میں 17 اور کوڈرما میں 15 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں سے زیادہ تر لکھ پتی اور ایک درجن سے زیادہ کروڑ پتی کے زمرے میں آتے ہیں۔

پانچویں مرحلے کے کروڑ پتی امیدوار

جئے پرکاش سنگھ بھوکتا-چترا-آزاد

کے این ترپاٹھی-چترا-کانگریس

کالی چرن سنگھ-چترا-بی جے پی

ناگمنی چترا- بہوجن سماج پارٹی

دیپک کمار گپتا-چترا-آزاد

منیش جیسوال- ہزاری باغ- بی جے پی

جے پی پٹیل- ہزاری باغ- کانگریس

اناپورنا دیوی- کوڈرما- بی جے پی

جئے پرکاش ورما- کوڈرما- آزاد

لوک سبھا انتخابات ہوں یا اسمبلی انتخابات، دولت مند امیدواروں کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ ایسے امیدوار الیکشن لڑنے کے لیے پارٹیاں بدلنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک رائٹس یعنی اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق جھارکھنڈ سمیت ملک بھر میں 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں 8 ہزار 49 امیدواروں نے قسمت آزمائی کی، جن میں سے 2 ہزار 297 امیدوار ایسے تھے جن کے اثاثوں کی مالیت کروڑوں روپے تھی۔ اسی طرح 2014 کے انتخابات میں 8 ہزار 205 امیدواروں میں سے 2 ہزار 217 امیدوار کروڑ پتی تھے۔

ہندوستھان سماچار//محمد


 rajesh pande