اسٹاک مارکیٹ کی تیزی پر لگا بریک ، سینسیکس اور نفٹی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے
مارکیٹ میں کمی کے باوجود سرمایہ کاروں نے 2.36 لاکھ کروڑ روپے کا منافع کمایا نئی دہلی، 15 مئی (ہ س)۔
اسٹاک مارکیٹ کی تیزی پر لگا بریک ، سینسیکس اور نفٹی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے


مارکیٹ میں کمی کے باوجود سرمایہ کاروں نے 2.36 لاکھ کروڑ روپے کا منافع کمایا

نئی دہلی، 15 مئی (ہ س)۔

گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ جمعہ سے جاری تیزی کا رجحان آج تھم گیا۔ دن بھر محدود رینج میں ٹریڈنگ کے بعد اسٹاک مارکیٹ آج گراوٹ کے ساتھ بند ہوئی۔ آج کی ٹریڈنگ کا آغاز معمولی اضافے کے ساتھ ہوا۔ مارکیٹ میں دن بھر اتار چڑھاو¿ رہا جس کے باعث سٹاک مارکیٹ میں بھی اتار چڑھاو¿ کا سلسلہ جاری رہا۔ دن کے کاروبار کے بعد سینسیکس 0.16 فیصد کی کمزوری کے ساتھ بند ہوا اور نفٹی 0.08 فیصد کی کمزوری کے ساتھ بند ہوا۔

آج کے کاروبار کے دوران پاور، کیپٹل گڈز اور یوٹیلیٹی سیکٹرز کے حصص میں مسلسل خریدار رہی۔ اسی طرح آئل اینڈ گیس، ریئلٹی اور میٹل انڈیکس میں بھی تیزی رہی۔ دوسری جانب بینکنگ، آئی ٹی، آٹوموبائل اور ایف ایم سی جی سیکٹرز کے حصص میں فروخت کا دباو¿ رہا۔ آج براڈ مارکیٹ میں مسلسل خریدار رہی، جس کی وجہ سے بی ایس ای مڈ کیپ انڈیکس 0.60 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ اسی طرح، اسمال کیپ انڈیکس نے آج کی تجارت 0.96 فیصد کی چھلانگ کے ساتھ ختم کی۔

آج مڈ کیپ اورا سمال کیپ شیئرز میں اضافے کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کی دولت میں 2.25 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ آج کی ٹریڈنگ کے بعد بی ایس ای لسٹڈ کمپنیوں کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن بڑھ کر 404.26 لاکھ کروڑ (عارضی) ہو گئی۔ جبکہ آخری کاروباری دن یعنی منگل کو ان کا بازار سرمایہ 401.90 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ اس طرح سرمایہ کاروں نے آج کی تجارت سے تقریباً 2.36 لاکھ کروڑ روپے کا منافع کمایا۔

آج، دن کے کاروبار میں بی ایس ای میں 3,935 حصص میں فعال تجارت ہوئی۔ جن میں سے 2,214 حصص کے بھاو¿ بڑھے، 1,580 حصص کی قیمتوں میں کمی جبکہ 141 حصص بغیر کسی حرکت کے بند ہوئے۔ این ایس ای میں آج 2,253 حصص میں فعال تجارت ہوئی۔ ان میں سے 1,338 حصص منافع کمانے کے بعد سبز رنگ میں بند ہوئے اور 915 حصص نقصان اٹھانے کے بعد سرخ رنگ میں بند ہوئے۔ اسی طرح سینسیکس میں شامل 30 حصص میں سے 12 حصص اضافے کے ساتھ بند ہوئے اور 18 حصص گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔ جبکہ نفٹی میں شامل اسٹاکس میں سے 23 اسٹاک سبز نشان میں اور 27 اسٹاک سرخ نشان میں بند ہوئے۔

ہندوستھان سماچار


 rajesh pande