سپریم کورٹ نے نیوز کلک کے بانی پربیر پورکایستھ کی رہائی کا حکم دیا، گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا
نئی دہلی، 15 مئی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے نیوز کلک کے بانی پربیر پرکایستھ کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار
SC orders release of Newsclick founder Prabir


نئی دہلی، 15 مئی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے نیوز کلک کے بانی پربیر پرکایستھ کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ جسٹس بی آر گوئی کی سربراہی والی بنچ نے پربیر پورکایستھ کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے اس حقیقت پر غور کیاکہ پربیر پورکایستھ کو حراست میں لیتے وقت ان کے وکیل کو تحویل کے حکم کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ پربیر پورکایستھ کو گرفتار کرتے وقت گرفتاری کی کوئی تحریری وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔عدالت نے 30 اپریل کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

سماعت کے دوران، عدالت نے پربیر کو گرفتار کر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی جلدبازی اور ان کے وکیل کو مطلع نہ کرنے پر بھی دہلی پولیس سے سوال کیاتھا۔ عدالت نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا تھا کہ حراست کی عرضی پربیر کے وکیل کو نہیں دی گئی تھی اور حراست کا حکم دے دیا گیا تھا۔

دراصل، سماعت کے دوران پربیر کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا تھا کہ پربیر کو 3 اکتوبر 2023 کی شام کو گرفتار کیا گیا ، جب کہ انہیں 4 اکتوبر کی صبح 6 بجے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر دیا گیا ۔ سبل نے کہا تھا کہ پربیر کے وکیل کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کئے جانے کے وقت اس کی اطلاع نہیں دی گئی۔ سبل نے کہا تھا کہ پیشی کے وقت دہلی پولیس کی جانب سے وکیل موجود تھے لیکن پربیر کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا۔ جب پربیر نے اس کی مخالفت کی تو ان کے وکیل کو فون کیاگیا اورحراست کی عرضی واٹس ایپ کے ذریعے صبح 7بج کر 7 منٹ بھیجی گئی۔ کچھ دیر بعد پربیر کے وکیل نے تحویل کی درخواست کی مخالفت کی لیکن مجسٹریٹ نے انہیں صبح 6 بجے تحویل میں بھیجنے کا حکم جاری کر دیا۔

سماعت کے دوران جسٹس سندیپ مہتا نے دہلی پولیس کی جانب سے اے ایس جی ایس وی راجو سے پوچھا کہ پربیر کے وکیل کو کیوں نہیں بتایا گیا؟ پہلے آپ اس کا جواب دیں۔ آپ کو صبح چھ بجے پیش کرنے کی کیا جلدی تھی؟ آپ کے پاس پورا دن باقی تھا۔ جسٹس بی آر گوئی نے یہ بھی کہا تھا کہ فطری انصاف کے اصولوں کے مطابق جب حراست کا حکم جاری کیا جا رہا تھا تو پربیر کے وکیل کی بھی موجودگی ہونا چاہیے تھی۔ آپ 10 بجے یا 11 بجے پیش کر سکتے تھے۔

امت چکرورتی اس معاملے میں سرکاری گواہ بن چکے ہیں۔ پٹیالہ ہاوس کورٹ امت چکرورتی کو سرکاری گواہ بننے کی اجازت دے چکا ہے۔ سپریم کورٹ نے 19 اکتوبر 2023 کو دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا۔ 13 اکتوبر 2023 کو دہلی ہائی کورٹ نے پربیر پورکایستھ اور امت چکرورتی کی گرفتاری کو چیلنج کرنے والی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ درخواست بے بنیاد ہے۔

پربیر پورکایستھ اور امت چکرورتی کو دہلی پولیس نے 3 اکتوبر 2023 کو گرفتار کیا تھا۔ دونوں کو نیویارک ٹائمز میں شائع خبر کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ نیویارک ٹائمز میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ نیوز کلک کو چینی پروپیگنڈے کو بڑھانے کے لیے رقم ملی ہے۔ خبر کے مطابق امریکی کروڑ پتی نیویلی رائے سنگھم نے چینی پروپیگنڈے کو فروغ دینے کے لیے نیوز کلک کو رقم دی۔ 3 اکتوبر 2023 کو اس معاملے میں کئی صحافیوں، یوٹیوبرز اور کارٹونسٹوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، جس کے بعد دہلی پولیس نے پربیر پورکایستھ اور امت چکرورتی کو گرفتار کیا تھا۔

ہندوستھا ن سماچار


 rajesh pande