جامعہ ملیہ اسلامیہ میں چوتھاسالانہ خان عبد الغفار خان یادگاری خطبہ منعقد
نئی دہلی،02اپریل(ہ س)۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سینٹر فار اسٹڈی آف سوشل ایکسلوڑن اینڈ اینکوزیو پالیسی
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں چوتھاسالانہ خان عبد الغفار خان یادگاری خطبہ منعقد


نئی دہلی،02اپریل(ہ س)۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سینٹر فار اسٹڈی آف سوشل ایکسلوڑن اینڈ اینکوزیو پالیسی نے مورخہ اٹھائیس مارچ دوہزارچوبیس کو یونیورسٹی کے میر انیس ہال میں چوتھا سالانہ خان عبدالغفار خان یادگاری خطبہ منعقد کیا۔ سینٹر فار پولیٹیکل اسٹڈیز،اسکول آف سوشل سائنسز جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ویدھو ورمانے یہ خطبہ پیش کیا۔خطبے کا موضوع ’رینیوانگ لبرل ڈیموکریسی:لیسنزفرام امبیڈکر’تھا۔پروگرام میں مہمان اعزازی کی حیثیت سے پروفیسر کمار سریش ڈائریکٹر(پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ) اور صدر شعبہ تعلیمی انتظامات،نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن شریک ہوئے۔پروفیسر مسلم خان،ڈین،فیکلٹی آف سوشل سائنسز جامعہ ملیہ اسلامیہ نے پروگرام کی صدار ت کی۔

سینٹر کے ڈاکٹر بدر افشاں کے تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہوااس کے بعدسینٹر کے ڈاکٹر شیخ مجیب الرحمان نے تعارفی تقریر کی اور سینٹر کی اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر تنوجا نے تمام شرکا اور مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔سینٹر کے فیکلٹی اراکین نے مہمانوں کی خدمت میں ستائش اور خلوص کے اظہار کے لیے پودے پیش کیے۔خطبے میں پروفیسر ویدھو ورما نے ڈاکٹر امبیڈکر کے افکار کی معنویت سے متعلق باتیں کیں اور بتایاکہ کس طرح اس قدر طویل زمانہ گزرجانے کے بعد بھی آج کے دور میں لبرل جمہوریت کے ضمن میں ان کے افکار و خیالات کی معنویت ہنوز برقرار ہے۔نیو لبرلزم کی آمد سے لبرل ڈیموکریسی کو جن چیلنجیز کا سامنا ہے اس سلسلے میں بھی پروفیسر موصوفہ نے اظہار خیال کیا اور یہ اجاگر کیا کہ نصف صدی کے زیادہ پہلے ڈاکٹر امبیڈکر نے لبرل جمہوریت کی خامیوں کو جان لیا تھا۔پروفیسر ورمانے موجودہ ہندوستان میں لبرل جمہوریت کو درپیش چیلنجز کے سلسلے میں بھی بتایا خاص طورپر ذات پات کے ضمن میں جسے ڈاکٹر امبیڈکر نے ہمیشہ ہی اجاگر کیااور انھوں نے تقریر کے دوران اس بات پر زوردیا کہ لبرل جمہوریت کی اہمیت و معنویت کو کبھی بھی بھولنا نہیں چاہیے۔انھوں نے کہاکہ ہندوستان کی آزادی کے پچھتر سال کے بعد بھی ڈاکٹر امبیڈکر کے خوابوں کا ہندوستان ابھی سامنے نہیں آیا اور اس کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔لیکچر کے بعد مذاکراتی سیشن ہوا جس سامعین نے معیاری سوالات پوچھے۔پروفیسر کمار سریش نے اپنی تقریر میں کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کا کام اور ان کے افکار و خیالات نے خود ان کے دنیاوی نقطہ نظر کو منور کیا ہے اور ایک اسکالر کے علمی سفر میں ڈاکٹر امبیڈکر کی تحریروں کوپڑھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔سینٹر کی جانب سے ڈاکٹر اروند کمار نے شکریے کی رسم اد ا کی۔پروگرام میں جامعہ اور دیگر یونیورسٹیوں اور اداروں کے طلبا،اسکالر اورعلم و ادب سے وابستہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے اورپروگرام کافی کامیاب رہا۔

ہندوستھان سماچار/افصل


 rajesh pande