تاریخ کے آئینے میں 9 فروری: آزاد ہندوستان میں مردم شماری
مردم شماری ایک ملک گیر مہم ہے جس میں ملک کے ہر حصے سے ہر فرد حصہ لیتا ہے۔ 9 فروری 1951 آزاد ہندوستان
تاریخ کے آئینے میں 9 فروری: آزاد ہندوستان میں مردم شماری


مردم شماری ایک ملک گیر مہم ہے جس میں ملک کے ہر حصے سے ہر فرد حصہ لیتا ہے۔ 9 فروری 1951 آزاد ہندوستان میں ایک بہت اہم تاریخ ہے، جب پہلی بار مردم شماری کے لیے فہرستیں بنانے کا کام شروع ہوا۔

1951 میں ہونے والی یہ مردم شماری ہندوستان کی نویں مردم شماری تھی لیکن ملک کی آزادی کے بعد پہلی مردم شماری تھی۔ ملک کی تقسیم سے نہ صرف مردم شماری میں غیر متوقع تبدیلیاں آئیں بلکہ ملک کا جغرافیہ بھی بدل گیا۔ 1951 میں ہندوستان کی آبادی تقریباً 36 کروڑ تھی۔ 2022 میں ہندوستان کی آبادی بڑھ کر 135 کروڑ سے زیادہ ہونے کی امید ہے۔

2011 تک بھارت میں 15 مرتبہ مردم شماری کرائی جا چکی ہے۔ پہلی مردم شماری 1872 میں برطانوی وائسرائے لارڈ میو کے دور میں ہوئی تھی جس کے بعد یہ ہر 10 سال بعد کرائی جاتی ہے۔ ہندوستان کی پہلی مکمل مردم شماری 1881 میں ہوئی تھی۔ 1949 کے بعد سے، اس کا انعقاد بھارت کے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر کے ذریعہ وزارت داخلہ، حکومت ہند کے تحت کیا جاتا ہے۔

دیگر اہم واقعات:

1667 - روس اور پولینڈ کے درمیان امن معاہدے پر دستخط۔

1788 - آسٹریا نے روس کے خلاف اعلان جنگ کیا۔

1929 - ہندوستانی سیاست دان اور مہاراشٹر کے آٹھویں وزیر اعلیٰ عبدالرحمن انتولے کی پیدائش ۔

1931 - ہندوستان میں پہلی بار کسی شخص کے اعزاز میں پورٹریٹ کے ساتھ ڈاک ٹکٹ جاری کیا ۔

1941 - برطانوی افواج نے لیبیا کے ساحلی شہر العثیلہ پر قبضہ کر لیا۔

1950 - ماہرقانون، صحافی اور سیاست دان سر عبدالقادر کی وفات۔

1951 - آزاد ہندوستان میں پہلی مردم شماری کے لیے فہرستیں بنانے کا کام شروع ہوا۔

1962 - امریکہ نے نیواڈا میں جوہری تجربہ کیا۔

1973 - بیجو پٹنائک اڑیسہ کی ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر منتخب ہوئے۔

1979 - افریقی ملک نائیجیریا میں آئین میں تبدیلی کی گئی۔

1991 - لتھوانیا میں ووٹروں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔

1999 - بھارتی ہدایت کار شیکھر کپور کی فلم 'ایلزبتھ' آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی۔

2002 - افغانستان کی سابق طالبان حکومت کے وزیر خارجہ متوکل نے ہتھیار ڈالدیا۔

2007 - پاکستان کی اپوزیشن جماعت جماعت علمائے اسلام نے جناح کو مجاہدآزادی کی فہرست سے نکال دیا۔

2010- حکومت ہند نے بی ٹی بیگن کی تجارتی کاشت پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی لگا دی۔

ہندوستھان سماچار


 rajesh pande