دارالعلوم زکریا دیوبند میں ختم بخاری شریف کا انعقاد
دیوبند 25 فروری (ہ س)۔ معروف دینی درسگاہ دارلعلوم زکریادےوبند مےں ختم بخاری شرےف کے پروگرام کا انعق
دارالعلوم زکریا دیوبند میں ختم بخاری شریف کا انعقاد


دیوبند 25 فروری (ہ س)۔

معروف دینی درسگاہ دارلعلوم زکریادےوبند مےں ختم بخاری شرےف کے پروگرام کا انعقاد ہوا ۔جس مےںدارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا راشد اعظمی نے دورئہ حدیث کے طلبہ کو بخاری شریف کا اختتامی درس دیا اور ملک وقوم نیز امن عالم کے لئے دعاءکرائی اور علماءکے بدست دورہ حدیث مکمل کرنے والے ساڑھے پانچ سو طلبہ کی دستار بندی عمل مےں آئی۔اس موقع پر مولانا راشد اعظمی نے احادیث نبوی کی فضیلت وکمالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ علمی اصطلاح میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل دونوں پرسنت کا اطلاق ہوتاہے،سنت کا لغوی معنی بھی طریقہ ہے اورسیدھے طورپریہ کہا جا سکتا ہے کہ جوعمل آپﷺ کے قول سے یاعمل سے ثابت ہووہ سنت ہے۔شریعت میں سنت کی غیر معمولی اہمیت ہے اور مسلمانوں کایہ امتیازہے کہ اللہ کے نبیﷺنے اپنی امت کی اجتماعی و انفرادی زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میں رہنمائی کی ہے۔خانگی زندگی سے لے کرمعاشرے میں رہنے کے طور طریقوں سے بھی آپﷺ نے آگاہ فرمایاہے،سونے سے لے کر جاگنے تک اور کھانے پینے سے لے کر اٹھنے بیٹھنے تک کا طریقہ بتایاہے،لوگوں سے کس طرح بات کرناہے اور ان کے ساتھ کیسا برتاوکرناہے،یہ بھی ہمارے نبی کریم نے بتایاہے۔

مختصریہ کہ اللہ کے نبیﷺنے قدم قدم پر اپنی امت کے ہر فردکی رہبری و راہنمائی فرمائی ہے۔اوریہ ایک حقیقت ہے کہ اگر کوئی انسان نبی اکرمﷺکے بتائے ہوئے طورطریقوں کواپنی عملی زندگی میں برپاکرتاہے اور اسی طرح اپنی زندگی گزارتاہے جیسے کہ آپﷺ نے ہدایت فرمائی ہے تویقیناً ایسا انسان کامیاب ہے۔دارالعلوم زکریا دےوبند کے شےخ الحدیث مفتی منتظر الحسن قاسمی ،ناظم تعلیمات مفتی مفتی ہارون ،مفتی ثابت ،مفتی طارق انور قاسمی ،مفتی عطاءالرحمان اور مولانا افاض الدین آسامی نے مشترکہ طور پر کہا کہ اللہ رب العزت نے مجسمہ انسانی کو اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا،اس کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا ،اس کی فطرت میں حق و باطل، ہدایت و ضلالت اور خیرو شر کے دو متضاد مادے رکھ دیے اور اس کو دارالامتحان میں پہنچا دیا۔انسان اگر راہِ حق کا مسافر بن جائے تو فرشتے اس کی قدم بوسی کو اتریں اور اگر فطرت سے بغاوت پر آمادہ ہوجائے توجانور بھی اس سے پناہ مانگیں۔اپنے صدارتی خطاب میں ادارہ کے مہتمم مولانا مفتی محمد شریف خان قاسمی نے علم دےن کی اہمےت وافادےت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بناکر کل کائنات پر فوقیت دی اور صفت علم سے سرفراز کیا اور اس کو حواس خمسہ عطا کرکے اچھے اور برے میں تمیز کرنے کی قوت عطا کی ، اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے انسان کو ہر طرح کے علوم بخشے ،لےکن اب سوال ےہ ہے کہ علم کےا چےز ہے ، اس کو سمجھنا ضروری ہے علم کے حصول کے بعد انسان عجز وانکساری کا نمونہ بن جاتا ہے خلق خدا کی خدمت اور اس سے محبت کا جذبہ دلوں مےں جاں گزیں ہوجاتا ہے ، علم کے ذرےعہ سے انسان خدا کو پہنچانتا ہے سچائی اور جھوٹ میں فرق کرنا سےکھتا ہے ، ہر دور میں انسانوں خاص طور پر مسلمانوں نے علم کو ترجیح دی ہے لیکن آج حالات دگرگو ں ہیں اس وقت ہم انتہائی بدتر ےن حالات سے گذررہے ہیں اس کی بنےادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قرآنی تعلیمات کو چھوڑ دیا ہے ، سنت اور اسوئہ رسول کو فراموش کربےٹھے ہےں ، اکابر ےن کے طرےقہ کار کو چھوڑ دیا ہے حالانکہ اکابر ین کی طرز حیات ہمارے لئے عظیم اثاثہ ہیں ، اب آپ پر عظےم ذمہ داری عائد ہوئی ہے کہ آپ اپنے اندر علم واخلاص کی دولت کے ساتھ احقاق حق وابطال باطل کے فرائض انجام دیں۔آخیر میں مولانا مفتی محمد شفیع اللہ خان نے پروگرام میں شرکت کرنے والے تمام مہمانان کرام کا شکریہ ادا کیا۔

پروگرام میں نظامت کے فرائض مفتی شاہنواز خان نے انجام دئے ۔اس دوران جملہ استاذہ و طلبہ کے علاوہ سےکڈوں افراد ختم بخاری کے اس پروگرام میں شریک رہے۔

ہندوستھان سماچار


 rajesh pande