لوک سبھا الیکشن 2024: کویلانچل کی آسنسول سیٹ کے لیے لڑائی ہوگئی دلچسپ
کولکاتا، 24 فروری (ہ س)۔ لوک سبھا انتخابات کو لے کر پورے ملک میں سیاسی ہلچل کا ماحول ہے۔ پورے ملک کی
لوک سبھا الیکشن 2024: کویلانچل کی آسنسول سیٹ کے لیے لڑائی ہوگئی دلچسپ


کولکاتا، 24 فروری (ہ س)۔ لوک سبھا انتخابات کو لے کر پورے ملک میں سیاسی ہلچل کا ماحول ہے۔ پورے ملک کی نظریں مغربی بنگال پر مرکوز ہیں کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں ہونے کے باوجود ممتا بنرجی نے اکیلے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاست میں کئی ایسی سیٹیں ہیں جو وی آئی پی ہیں اور ان پر مقابلہ دلچسپ ہونے والا ہے۔ ایسی ہی ایک سیٹ آسنسول لوک سبھا سیٹ ہے۔ یہاں 2019 کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر مرکزی وزیر بابل سپریو نے جیت درج کی تھی۔ تاہم نریندر مودی حکومت کی دوسری کابینہ میں جگہ نہ ملنے کے بعد ان کے پارٹی سے اختلافات ہو گئے اور پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔

شتروگھن سنہاہیں موجودہ ایم پی

ان کی جگہ ترنمول کانگریس نے تجربہ کار بالی ووڈ اداکار شتروگھن سنہا کو ٹکٹ دیا اور 2022 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں وہ دو لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے تاریخی جیت درج کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

پہلی بار آسنسول پارلیمانی سیٹ پر ترنمول کے کسی امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔ 2014 سے پہلے یہ سیٹ سی پی آئی (ایم) کے امیدواروں کے پاس تھی اور 2014 میں بابل سپریو پہلی بار بی جے پی کے ٹکٹ پر جیتے۔ اس بار مقابلہ دلچسپ ہونے والا ہے کیونکہ صورتحال واضح نہیں ہے کہ ترنمول کانگریس دوبارہ شتروگھن سنہا کو ٹکٹ دے گی یا نہیں۔ بابل سپریو ترنمول میں شامل ہو گئے ہیں اور ہندی بولنے والے گڑھ ہونے کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس بھی امیدواروں کی بہتات ہے۔ سابق میئر جتیندر تیواری بی جے پی کے ممکنہ امیدواروں میں سے ایک ہیں۔ اگنی مترا پال نے 2022 کے ضمنی انتخاب میں شتروگھن سنہا کے خلاف مقابلہ کیا تھا لیکن وہ ہار گئیں۔ اس بار بھی انہیں ٹکٹ ملنے کا امکان ہے۔ اس سیٹ پر جیت کے بعد آج تک شتروگھن سنہا نے پارلیمنٹ میں ایک بار بھی بحث میں حصہ نہیں لیا ہے۔ نہ تحریری اور نہ زبانی۔ یہاں تک کہ آسنسول میں بھی وہ لوگوں سے رابطے میں نہیں رہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں میں ناراضگی ہے۔ اس وجہ سے اس بار یہ مقابلہ دلچسپ ہونے جا رہا ہے۔

آسنسول شہر کوئلے کے لئے مشہور

کولکاتا کے بعد آسنسول مغربی بنگال کا سب سے بڑا شہر ہے۔ ریاست کی مغربی سرحد پر، چھوٹا ناگپور سطح مرتفع کے تقریباً وسط میں واقع یہ شہر معدنیات سے مالا مال ہے۔ یہاںہندوستان کی مشہور سینیریل سائیکل فیکٹری واقع ہے۔ یہ شہر ہندوستان کے ان 11 شہروں میں سے ایک ہے جو دنیا کے 100 تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ کوئلہ اور اسٹیل آسنسول کی معیشت کی بنیاد ہیں، جو ریاست کے دارالحکومت کولکاتا سے 200 کلومیٹر دور دریائے دامودر کی وادی میں واقع ہے۔ گھاگر بری چاندنی مندر، گلیکسی مال، کلیانیشوری مندر، نہرو پارک، بہاری ناتھ ہل یہاں کے اہم سیاحتی مقامات ہیں۔ دہلی سے اس کا فاصلہ 1,283.7 کلومیٹر ہے۔

ووٹرز کا اعداد وشمار

آسنسول لوک سبھا اس وقت سات اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سات لاکھ 72 ہزار 138 مرد ووٹرز ہیں۔ خواتین ووٹرز کی تعداد آٹھ لاکھ 43 ہزار 683 ہے۔ تیسری صنف کے ووٹرز کی تعداد 44 ہے۔ 2019 میں ووٹروں کی کل تعداد 12 لاکھ 38 ہزار 135 تھی۔ جن میں سے کل مرد ووٹرز کی تعداد چھ لاکھ 64 ہزار 991 اور خواتین ووٹرز کی تعداد پانچ لاکھ 72 ہزار 239 تھی۔ 2019 میں کل ووٹنگ کا تناسب 76.62 فیصد تھا۔ تب بابل سپریو 6 لاکھ 33 ہزار 378 ووٹ حاصل کر جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

ہندوستھان سماچار


 rajesh pande