ہندوستان کی یو پی آئی خدمات اب سری لنکا اور ماریشس میں بھی شروع
نئی دہلی ، 12 فروری (ہ س)۔ ہندوستان کی یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) خدمات پیر کو سری لنکا ا
وزیراعظم


نئی دہلی ، 12 فروری (ہ س)۔

ہندوستان کی یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) خدمات پیر کو سری لنکا اور ماریشس میں ایک ورچوئل تقریب کے دوران شروع کی گئیں۔ اس دوران ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی ، سری لنکا کے صدر رانیل وکرما سنگھے اور ماریشس کے وزیر اعظم پراوند جگناتھ نے ورچوئل میڈیم کے ذریعے شرکت کی۔یو پی آئی خدمات کے آغاز سے سری لنکا اور ماریشس کا سفر کرنے والے ہندوستانی شہریوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا سفر کرنے والے ماریشیا کے شہریوں کے لیے ادائیگیوں میں آسانی ہوگی۔ اس اقدام سے ڈیجیٹل رابطے میں اضافہ ہوگا۔اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے آج کا دن بحر ہند کے تین دوست ممالک کے لیے خاص قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے تاریخی رشتوں کو جدید ڈیجیٹل طریقے سے جوڑ رہے ہیں۔ یہ ہمارے عوام کی ترقی کے لیے ہمارے عزم کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا ، '' اس سے ہمارے درمیان سیاحت میں اضافہ ہوگا (بھارت ، سری لنکا اور ماریشس)۔ مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی سیاح بھی وہ مقامات پسند کریں گے جہاں یو پی آئی خدمات دستیاب ہوں گی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ سال سری لنکا کے صدر اور ماریشس کے وزیر اعظم کے ہندوستان کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے ایک ویژن دستاویز کو اپنایا تھا۔ مالیاتی رابطوں میں اضافہ اس کا ایک اہم حصہ تھا۔ وزیر اعظم نے اعتماد کے ساتھ کہا کہ سری لنکا اور ماریشس کے یو پی آئی سسٹم میں شامل ہونے سے دونوں ممالک کو بھی فائدہ ہوگا۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا میں نیپال ، بھوٹان ، سنگاپور اور خلیج میں متحدہ عرب امارات کے بعد اب افریقہ میں ماریشس سے روپے کارڈ لانچ کیا جا رہا ہے۔ اس سے ماریشس سے ہندوستان آنے والے لوگوں کو بھی سہولت ملے گی۔ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے بارے میں بات کرتے ہوئے مودی نے کہا ، “ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر نے ہندوستان میں ایک انقلابی تبدیلی لائی ہے۔ ہمارے چھوٹے دیہاتوں میں چھوٹے تاجروں کے لیے بھی ڈیجیٹل رسائی جاری ہے ، کیونکہ اس میں سہولت کے ساتھ ساتھ رفتار بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فنٹیک کنیکٹیویٹی کے ذریعے نہ صرف سرحد پار لین دین بلکہ سرحد پار رابطے بھی مضبوط ہوں گے۔ ہندوستان کا یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس یا یو پی آئی اب ایک نئی ذمہ داری انجام دے رہا ہے - ہندوستان کے ساتھ شراکت داروں کو متحد کرنا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کے دور دراز دیہات میں چھوٹے تاجر ڈیجیٹل ادائیگی کر رہے ہیں کیونکہ اس سے سہولت کے ساتھ ساتھ رفتار بھی ملتی ہے۔ پچھلے سال ،یو پی آئی کے لین دین نے 100 بلین کا ہندسہ عبور کیا ، جس کی رقم 2 لاکھ کروڑ روپے تھی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی 'پڑوسی پہلے' کی پالیسی ہے۔ ہمارا سمندری وژن ہے -’ ساگر‘، یعنی خطے میں سب کے لیے سلامتی اور ترقی۔ ہمارا مقصد پورے خطے میں امن ، سلامتی اور ترقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران ہندوستان نے کو وین پلیٹ فارم کے ذریعے دنیا کی سب سے بڑی ویکسینیشن مہم شروع کی تھی۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے اور بدعنوانی میں کمی آئی ہے۔ معیشت بھی مزید جامع ہوتی جا رہی ہے۔ عوام اب حکومت پر اتنا اعتماد کر رہے ہیں جتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ چاہے آفت قدرتی ہو ، صحت سے متعلق ہو ، اقتصادی ہو یا بین الاقوامی سطح پر معاونت کی ہو ، ہندوستان سب سے پہلے جواب دہندہ رہا ہے اور آگے بھی رہے گا۔

ہندوستھان سماچار


 rajesh pande