تاریخ کے آئینے میں11 فروری : گاندھی جی کی پانچویں 'لال' جمنا جنہوں نے بجاج گروپ کی بنیاد رکھی
11 فروری کی تاریخ کا بجاج گروپ کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ گروپ کے بانی جمنالال بجاج نے اس تاریخ کو آخری س

Jamnalal 
۔

۔11 فروری کی تاریخ کا بجاج گروپ کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ گروپ کے بانی جمنالال بجاج نے اس تاریخ کو آخری سانس لی۔ جمنالال 4 نومبر1889 کو ایک غریب مارواڑی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آج کے راجستھان اور اس وقت کے جے پور ریاست کے سیکر میں۔ صرف چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کی ۔ جب جمنالال پانچ سال کے تھے تو وردھا کے سیٹھ بچھراج نے انہیں گود لے لیا۔ سیٹھ بچھراج کے پاس بہت دولت تھی لیکن جمنالال کو پیسے سے پیار نہیں تھا۔ایک بار وہ گھرچھوڑ کر چلے بھی گئے لیکن انہیں کسی طرح تلاش کر واپس لایا گیا۔

جب انہیں وراثت میں جائیداد ملی تو انہوں نے اسے عطیہ کرنا شروع کردیا۔ جمنالال عمر بھر اپنے آپ کو ٹرسٹی سمجھتے رہے۔ یہ وہی جمنالال ہے جو سیٹھ جمنالال بجاج کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ جمنالال ایک صنعتکار تھے، لیکن انہوں نے کبھی بھی صنعتکار کی طرح زندگی نہیں گزاری۔ آج بھی انہیں ایک صنعت کار سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ مجاہد آزادی بھی تھے۔ سیٹھ جمنالال بجاج کا انتقال 11 فروری 1942 کو ہوا۔

جمنالال گاندھی جی سے بہت متاثر تھے۔ جنوبی افریقہ سے واپسی کے بعد جب گاندھی جی نے 1915 میں سابرمتی میں ایک آشرم بنایا تو جمنالال ان کے ساتھ آشرم میں رہے۔ 1920 میں ناگپور میں کانگریس کا اجلاس ہوا۔ اس میں جمنالال نے گاندھی جی کو ایک عجیب و غریب تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کا 5واں بیٹا بننا چاہتے ہیں اور گاندھی جی کو اپنے والد کے طور پر گود لینا چاہتے ہیں۔

شروع میں گاندھی جی اس تجویز کو سن کر بہت حیران ہوئے، لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے جمنالال کو اپنا پانچواں بیٹا مان لیا۔ 16 مارچ 1922 کو سابرمتی جیل سے جمنالال کو بھیجے گئے خط میں گاندھی جی نے لکھا تھا کہ تم پانچویں بیٹے بن گئے ہو، لیکن میں ایک قابل باپ بننے کی کوشش کر رہا ہوں۔ جمنالال بجاج نے 1920 کی دہائی میں ایک شوگر مل کے ذریعے بجاج گروپ شروع کیا۔ جمنالال آزادی کی جنگ میں مصروف رہے۔ آج بجاج گروپ میں 25 سے زیادہ کمپنیاں ہیں۔

دیگر اہم واقعات

1543: انگلینڈ اور روم کے درمیان فرانس کے خلاف معاہدہ۔

1613: مغل حکمران جہانگیر نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو سورت میں فیکٹری لگانے کی اجازت دی۔

1793: ایرانی فوج نے ہالینڈ میں وینلو پر قبضہ کر لیا۔

1794: امریکی سینیٹ کا اجلاس پہلی بار عام لوگوں کے لیے کھولا گیا۔

1798: فرانس نے روم پر قبضہ کر لیا۔

1814: ناروے نے آزادی کا اعلان کیا۔

1826: لندن یونیورسٹی 'یونیورسٹی کالج لندن' کے نام سے قائم ہوئی۔

1922: چین کو آزادی دلانے کے لیے نو ممالک نے واشنگٹن میں ایک معاہدے پر دستخط کیے۔

1931: اردو کے مشہور ادیب و نقاد گوپی چند نارنگ کی پیدائش۔

1933: گاندھی جی کے ہریجن ہفتہ وار کی اشاعت شروع ہوئی۔

1942: مجاہد آزادی اور صنعت کار جمنالال بجاج کا انتقال ۔

1953: سوویت یونین نے اسرائیل کے ساتھ سیاسی تعلقات ختم کر دیے۔

1959: ہندوستانی کرکٹر وینو مانکنڈ نے اپنا آخری ٹیسٹ ویسٹ انڈیز کے خلاف دہلی میں کھیلا۔

1963: امریکہ نے عراق کی نئی حکومت کو تسلیم کیا۔

1968: کمیونسٹ فوجیوں نے جنوبی ویتنام میں 300 شہریوں کو ہلاک کیا۔

1975: برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی پہلی خاتون رہنما کے طور پر مارگریٹ تھیچر کا انتخاب۔

1977: ہندوستان کے سابق صدر فخر الدین علی احمدکا انتقال ۔

1979: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اقتدار پر قبضہ کیا۔

1990: جنوبی افریقہ کے سیاہ فام رہنما نیلسن منڈیلا 28 سال بعد جیل سے رہا ہوئے۔

1993: مشہور فلم پروڈیوسر و ہدایت کار کمال امروہی کا انتقال۔

2003: شین وارن ڈوپ ٹیسٹ میں پکڑے جانے کے بعد وطن واپس آئے۔

2005: پاکستان میں شدید بارش کے سبب ڈیم ٹوٹ گیا، 100 سے زائد ہلاک۔

2008: مشرقی تیمور کے باغی فوجیوں نے صدر ہوزے راموس کو گولی مار دی۔

2010: ہندوستان کے اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین شری کمار بنرجی اور برطانوی ہائی کمشنر رچرڈ سٹیگ نے ہندوستان-برطانیہ سول نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے۔

2018: ساراتوف ایئر لائنز کی پرواز 703 روس میں گر کر تباہ، 71 افراد جاں بحق۔

ہندوستھان سماچار

History on this day---11th February/شہزاد


 rajesh pande