مہاویر واٹیکا میں گوشت پیش کرنے پر 10 ہزار روپے کی سیکورٹی رقم ضبط کرنے کا معاملہ گرمایا
دہلی میونسپل کارپوریشن پر غیر آئینی اور امتیازی سلوک کا الزام نئی دہلی،24جنوری(ہ س)۔ دہلی میونسپل


Mahavir 

دہلی میونسپل کارپوریشن پر غیر آئینی اور امتیازی سلوک کا الزام

نئی دہلی،24جنوری(ہ س)۔

دہلی میونسپل کارپوریشن کا ایک غیر آئینی اور امتیازی رویہ سامنے آیا ہے۔ دریا گنج کے مہاویر واٹیکا کمیونٹی ہال میں نان ویجیٹیرین ڈشز پکانے اور سرو کرنے پر کمیونٹی ہال کی بکنگ کے لیے جمع کرائے جانے والے 10,000 روپے کی سیکورٹی ڈپازٹ ضبط کر لی گئی ہے۔جبکہ یہاں 95 فیصد سے زیادہ بکنگ نان ویجیٹرین پکوان بنانے اور کھلانے کیلئے کئے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کمیونٹی ہال کا نام بھگوان مہاویر کے نام پر رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے یہاں پر جانوروں کا قتل نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے یہاں پر نان ویجیٹرین پر پابندی لگایا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کمیونٹی ہال مسلم اکثریتی حلقہ میں ہے اور یہاں پر بکنگ بھی مسلمانوں کے ذریعہ کرائی جاتی ہے اس لئے یہاں پر لگائے گئے گوشت پر پابندیوں کو ختم کیا جانا چاہئے اور سیکورٹی منی ضبط کئے جانے کا جو نظام ہے وہ ہٹایا جانا چاہئے۔

مہاویر واٹیکا میں نان ویجیٹیرین کھانا تیار کرنے اور پیش کرنے کے نام پر سیکورٹی رقم ضبط کرنے کا معاملہ ایک بار پھرسرخیوں میں ہے۔ اس کمیونٹی ہال میں ایک ساتھ دو پروگراموں کے لیے بکنگ کی جاتی ہے۔ایک حصہ ٹیکسی اسٹینڈ سائیڈ کہلاتا ہے اور دوسرے حصے کو جین اسکول سائٹ کہتے ہیں۔ اس کمیونٹی ہال کی بکنگ بھی ہمیشہ بھری رہتی ہے۔ سال کے 365 دنوں میں شاید ہی کسی دن کی بکنگ نہ ہو۔ بکنگ لینے والے زیادہ تر مسلمان ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے لیے شادیوں یا دیگر تقریبوں میں نان ویجیٹیرین کھانا پکانا اور کھانا عام بات ہے۔ اس کمیونٹی ہال کو بک کروانے کے لیے 10 ہزار کی سیکورٹی رقم بینک ڈرافٹ کے ذریعے جمع کرائی جاتی ہے، باقی 30 ہزار کرایہ نقد وصول کیا جاتا ہے، شادی یا کوئی بھی تقریب ختم ہونے کے بعد کھانا پکانے اور نان ویجیٹیرین پیش کرنے کا الزام لگا کر سیکورٹی رقم ضبط کرلی جاتی ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کے اس امتیازی رویے کی وجہ سے اب تک مسلمانوں سے نان ویجیٹیرین ڈش اور سرونگ کے نام پر کروڑوں روپے ہتھیائے جا چکے ہیں۔ ناز ویلفیئر سوسائٹی کے جنرل سکریٹری حاجی فیضان دہلوی کا کہنا ہے کہ دہلی میونسپل کارپوریشن کا یہ رویہ مکمل طور پر غیر آئینی اور امتیازی ہے، بھگوان مہاویر کے نام سے منسوب اس کمیونٹی ہال کی وجہ سے اگر نان ویجیٹیرین لوگوں کو جرمانہ ادا کرنا پڑے تو ایسا نہیں ہے۔ بھگوان مہاویر عدم تشدد کے داعی تھے اور انہوں نے جانوروں کے قتل کو روکنے کی کوشش کی۔ ان کے اصولوں کی وجہ سے علاقے کے مسلمان کیوں تکلیف میں رہیں؟مسلم اکثریتی علاقے میں کمیونٹی بلڈنگ کا نام ان کے نام پر رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو اس کمیونٹی ہال کا نام تبدیل کیا جائے تاکہ یہاں پر نان ویجیٹیرین کھانا پیش کرنے پر پابندی ہٹائی جا سکے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیا یہاں نان ویجیٹیرین کھانا پکانے اور سرو کرنے کے بعد ضبط کی گئی سیکورٹی رقم سے بھگوان مہاویر کی روح کو سکون ملتا ہے؟ یہ غیر عملی باتیں ہیں اور ان کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کے حوالے سے عدالت سے رجوع کریں گے اور عدالت سے انصاف مانگیں گے۔

ہندوستھان سماچارمحمدخان


 rajesh pande