سپریم کورٹ نے ای ڈبلیو ایس ریزرویشن کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا
نئی دہلی ، 27 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے ای ڈبلیو ایس ریزرویشن کو چیلنج کرنے والی درخ
سپریم کورٹ


نئی دہلی ، 27 ستمبر (ہ س)۔

سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے ای ڈبلیو ایس ریزرویشن کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف جسٹس یو یو للت کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے سات دنوں تک تمام فریقین کی تفصیل سے سماعت کی۔23 ستمبر کو سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے بار بار کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو اقتصادی بنیادوں پر ریزرویشن پر غور کرنا چاہئے۔ 50 فیصد ریزرویشن کی حد کو بنیادی ڈھانچے کی حد کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔ آئینی ترمیم کی تحقیقات اسی وقت ہونی چاہیے جب یہ پتہ چلے کہ اس سے آئین کی بنیادی روح کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ مہتا نے کہا کہ پارلیمنٹ قوم کی روح کی نمائندگی کرتی ہے ، لہٰذا اگر پارلیمنٹ کی اجازت سے آئین میں کوئی شق شامل کی جاتی ہے، تو اس کی صداقت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

مہتا نے کہا تھا کہ آئینی ترمیم بنیادی ڈھانچے کو چھو سکتی ہے لیکن اسے تب تک منسوخ نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ یہ بنیادی ڈھانچہ کو تبدیل نہ کرے۔ سینئر وکیل پالکی والا نے منروا ملز کیس میں کہا کہ دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کے بجائے یہ 98 فیصد ہونی چاہئے۔ وفاقیت کو آئین کے دیباچے میں نہیں بلکہ اس کے بنیادی ڈھانچے میں دیکھنا چاہیے۔ کچھ ترامیم آئین کو مضبوط نہیں کرتیں بلکہ آئین کو تباہ کرتی ہیں۔سینئر ایڈوکیٹ ویبھا دت مکھیجا، ای ڈبلیو ایس امیدواروں کی طرف سے پیش ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اب ای ڈبلیو ایس امیدوار اہل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس سے بنیادی ڈھانچے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ ہمیں آئین کی تبدیلی دیکھنا ہے۔ معاشرے نے زمانے کے مطابق ترقی کی ہے ، جیسے دفعہ 377 اور خواجہ سراو¿ں کے حقوق وغیرہ۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈبلیو ایس کا حق آئین کے آرٹیکل 21 سے آتا ہے اور غربت اہم عوامل میں سے ایک ہے۔

21 ستمبر کو سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے کہا تھا کہ 50 فیصد ریزرویشن کی حد بالاجی کے اس فیصلے کے بعد آئی ہے ، جس میں عدالت نے کہا تھا کہ عام زمرے کے حقوق کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصولوں کے مطابق مساوات برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسی لیے ای ڈبلیو ایس کو لایا گیا۔

ہندوستھان سماچارمحمدخان


 rajesh pande