عبید اعظم اعظمی اردو کے جینئس شاعر اور ماہر عروض ہیں: پروفیسر شیخ عقیل احمد
قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ممبئی میں مقیم ممتاز شاعر اور ان کے رفقا کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب
شیخ عقیل


قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ممبئی میں مقیم ممتاز شاعر اور ان کے رفقا کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب

نئی دہلی،27اکتوبر(ہ س)۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں ممبئی میں مقیم معروف شاعر اور ماہر عروض عبید اعظم اعظمی، فروغ اردو کے لیے سرگرم سید زاہد علی اور معروف صحافی امتیاز خلیل کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے ان کا تعارف بھی کروایا،خصوصاً عبید اعظم اعظمی کی ادبی و شعری خدمات کے مختلف پہلوو¿ں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عبید اعظم اعظمی اردو زبان کے جینئس شاعر، نغمہ نگار اور ماہر عروض ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شاعری بہ طور خود ایک مشکل فن ہے، مگر ان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے شاعری کی کئی نئی بحریں بھی ایجاد کی ہیں، ممبئی یونیورسٹی میں ادب و شعر کے طلبہ کے درمیان ان کے لیکچرز بھی ہوتے رہتے ہیں، اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کا ایک بڑا کام ’خرمن‘ کے نام سے مضطرخیرآبادی کے کلام کی تدوین ہے،جو آٹھ جلدوں میں شائع ہوا ہے۔ مختلف دستاویزی فلموں کے لیے نغمے لکھ چکے ہیں۔ کئی ادیبوں اور فن کاروں پر ہونے والے شوز میں اینکرنگ کر چکے ہیں۔ دسیوں ایوارڈ سے نوازے جا چکے ہیں، کئی اہم ادبی و ثقافتی اداروں سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ دوسرے مہمان سید زاہد علی کی اردو زبان سے محبت کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ رضاکارانہ طورپر اردو کے فروغ میں سرگرم ہیں، اردو کتاب میلوں کے انعقاد میں پیش پیش رہتے اور لاکھوں کی اردو کتابوں کی فروخت کا ذریعہ بنتے ہیں، ایسے لوگ یقیناً قابل ستائش ہیں۔ تیسرے مہمان معروف صحافی امتیاز خلیل کی اردو زبان سے محبت اور اس کے فروغ کے تئیں ان کے جوش و جذبے کا شیخ عقیل احمد نے خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ امتیاز صاحب غیر معمولی تنظیمی صلاحیتوں کے حامل ہیں، پچھلے سال مالیگاو¿ں اردو کتاب میلے کے کامیاب انعقاد میں ان کا بہت اہم رول رہا ہے اور اپنے طورپر وہ اردو کے کاز کے لیے جدوجہد میں مصروف رہتے ہیں۔ شیخ عقیل احمد نے کہا کہ جب تک اردو زبان کو ایسے بے لوث خادم میسر ہیں ہماری زبان پھلتی پھولتی رہے گی اور اس کا دائرہ بڑھتا رہے گا۔ اس موقعے پر عبید اعظم اعظمی کے ذریعے لکھا گیا قومی اردو کونسل کا ترانہ بھی پروفیسر شیخ عقیل احمد کو پیش کیا گیا،جس کے لیے انھوں نے موصوف کا خصوصی طورپر شکریہ ادا کیا اور انھوں نے اپنے منتخب کلام سے بھی سامعین کو محظوظ کیا۔ مہمانوں نے اس پروگرام کے انعقاد کے لیے کونسل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قومی اردو کونسل اردو کے فروغ کے لیے مو¿ثر کوششیں کر رہی ہے، جس کے لیے ڈائرکٹر صاحب خصوصاً مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے اس پر بھی زور دیا کہ عام اردو والوں کو بھی کونسل کے قدم سے قدم ملاکر چلنا چاہیے تاکہ کونسل کی اسکیموں اور فروغِ اردو کے منصوبوں کا فائدہ مرکزی علاقوں کے علاوہ ملک کی دور دراز کی اردو آبادی تک بھی پہنچے۔

ہندوستھان سماچار


 rajesh pande