تاریخ کے آئینے میں 28 ستمبر: انقلابی شہیداعظم بھگت سنگھ کو یاد کرنے کی تاریخ
28 ستمبر کی تاریخ ملک اور دنیا کی تاریخ میں اہم وجوہات کی بنا پر درج ہے۔ یہ ہندوستانی جدوجہد آزادی ک
شہید بھگت سنگھ 


28 ستمبر کی تاریخ ملک اور دنیا کی تاریخ میں اہم وجوہات کی بنا پر درج ہے۔ یہ ہندوستانی جدوجہد آزادی کے لیے ایک یادگار تاریخ ہے۔ زندگی اپنے دم پر جی جاتی ہے ،دوسرے کے کندھوں پر تو صرف جنازے اٹھائے جاتے ہیں۔سنسنی پیدار کرنے والی ایسی ہی شخصیت سے متعلق ہے آج کے دن کی تاریخ۔ بھگت سنگھ 28 ستمبر 1907 کو پیدا ہوئے تھے۔ آج صرف چند نام ہی ایسے ہیں جن کا احترام ہندوستان اور پاکستان دونوں کے لوگ کرتے ہیں۔ بھگت سنگھ ان میں سے ایک ہیں۔ پنجاب کے ایک کسان کے گھر میں پیدا ہونے والے بھگت سنگھ کو بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔ لاہور میں اپنی تعلیم کے دوران انہوں نے یورپ کے مختلف ممالک میں انقلاب کے بارے میں پڑھا۔ بھگت سنگھ پر اس کا گہرا اثر ہوا۔ نوعمری میں ان کے اندر سوشلسٹ سوچ پیدا ہوئی۔ آہستہ آہستہ وہ کچھ تنظیموں میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر انقلاب یورپ کو بدل سکتا ہے تو ہندوستان کو کیوں نہیں بدل سکتا۔

1928 میں لاہور میں سائمن کمیشن کے خلاف ایک جلوس کے دوران برطانوی حکام نے لاٹھی چارج کا حکم دیا۔ پنجاب کیسری اخبار کے ایڈیٹر لالہ لاجپت رائے لاٹھی چارج میں مارے گئے۔پنجاب میں گرم دل کے رہنما لالہ لاجپت رائے کا پنجاب میں بہت اثرورسوخ تھا۔ ان کی موت نے بھگت سنگھ کو صدمہ پہنچایا۔ بھگت سنگھ نے اپنے ساتھیوں شیو رام راج گرو ، سکھ دیو ٹھاکر اور چندر شیکھر آزاد کے ساتھ مل کر لاٹھی چارج کاحکم دینے والے افسر کے قتل کی سازش رچی۔اگلے ہی سال 1929 میں بھگت سنگھ نے بٹوکیشور دت اور راج گرو کے ساتھ مل کر اسمبلی میں بم دھماکے کا منصوبہ بنایا۔ بھگت سنگھ اور بٹوکیشور نے ایک ایک بم پھینکا۔ دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن یہ بڑی خبر بن گئی۔ دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ صبح دیر گئے راج گرو کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ بھگت سنگھ نے قید کے دوران ڈائریاں اور کتابیں بھی لکھیں۔ ان کی ڈائری سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کارل مارکس ، فریڈرک اینگلز اور لینن کے نظریات سے متاثر تھے۔ تاہم بھگت سنگھ نے کبھی کمیونسٹ پارٹی کی رکنیت نہیں لی۔عدالتی سماعت کے دوران بھگت سنگھ نے اخبارات کے ذریعے اپنی بات دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی۔ عدالت نے تینوں کو سزائے موت سنائی۔ 23 مارچ 1931 کو تینوں کو لاہور جیل میں پھانسی دی گئی۔ شام کو پھانسی کی خبر اگلے دن برطانیہ کے اخبار دی ٹریبیون میں صفحہ اول کی خبر تھی۔

بھارت رتن لتا منگیشکر 28 ستمبر 1929 کو اندور میں پنڈت دینا ناتھ منگیشکر اور شیونتی کے ہاں پیدا ہوئیں۔ لتا کے والد مراٹھی موسیقار ، کلاسیکی گلوکار اور تھیٹر اداکار تھے ، جب کہ ان کی والدہ گجراتی تھیں۔ بچپن سے ہی لتا کو گھر میں موسیقی اور فن کا ماحول ملا اور وہ اس کی طرف راغب ہو گئیں۔ پانچ سال کی عمر سے ہی لتا کو ان کے والد نے موسیقی کے سبق سکھائے تھے۔ 1942 میں والد کے انتقال کے بعد خاندان کی ذمہ داری لتا پر آ گئی۔ پھر لتا نے ہندی-مراٹھی فلموں میں بھی اداکاری کی۔ انہوں نے مراٹھی فلموں میں بھی گانا شروع کیا۔ اس وقت سے شروع ہونے والا سلسلہ چند سال پہلے تک جاری رہا۔ انہوں نے 20 زبانوں میں 30 ہزار سے زائد گانے گائے ہیں۔ انہیں 2001 میں بھارت رتن سے نوازا گیا۔ اس سے قبل انہیں پدم بھوشن ( 1969)، دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ( 1989) اور پدم وبھوشن ( 1999) سے نوازا گیا تھا۔ تین بار نیشنل فلم ایوارڈ اور آٹھ بار فلم فیئر ایوارڈ جیتا۔ مدھیہ پردیش حکومت نے لتا منگیشکر کے نام پر ایک ایوارڈ بھی قائم کیا ہے۔

اہم واقعات

1838 : ہندوستان میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی تاج پوشی۔ وہ اپنے والد کی وفات کے بعد تخت نشین ہوئے۔

1887 : چین میں دریائے ہوانگ ہو میں آنے والے سیلاب سے تقریباً 15 لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔

1928 : امریکہ نے چین کی قوم پرست چیانگ کائی شیک کی حکومت کو تسلیم کیا۔

1977: جاپانی ریڈ آرمی نے ہندوستان کے اوپر جاپان ایئرلائن کے طیارے کو ہائی جیک کیا۔ جہاز میں 156 افراد سوار تھے۔

2001 : امریکی ، برطانوی افواج اور اتحادیوں نے’ آپریشن انڈیورنگ فریڈم‘ کا آغاز کیا۔

2002: لکھنو¿ میں ایک سیاسی ریلی میں شرکت کے بعد واپس آنے والے ہزاروں افراد کے درمیان ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ۔ 14 افراد ہلاک ہو گئے۔

2007 : سمندری طوفان لورینزو نے میکسیکو کے ساحلی علاقوں میں تباہی مچا دی۔

2015:اترپردیش کے ضلع غازی آباد میں محمد اخلاق کو گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

2016 : افغانستان ، بنگلہ دیش ، بھوٹان اور بھارت نے اسلام آباد میں نومبر 2016 کے سارک سربراہی اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔

2018 : سپریم کورٹ نے سبریمالا مندر میں خواتین کے داخلے پر صدیوں پرانی پابندی ہٹا دی۔

پیدائش

551 قبل مسیح:چین کے فلسفی کنفیوسس

1885 : شری نارائن چترویدی، ہندی مصنف اور سرسوتی پتریکا کے ایڈیٹر۔

1836 : روحانی گرو شرڈی سائی بابا

1896 : صحافی اور انقلابی جذبات کے شخص رام ہرکھ سنگھ سہگل

1907 : انقلابی ہیرو بھگت سنگھ۔

1909 : اداکار پی جے راج۔

1929 : معروف بھارتی پلے بیک گلوکارہ لتا منگیشکر۔

1949 : 41ویں چیف جسٹس آف انڈیا راجندر مل لوڑھا

1982 : مشہور ہندوستانی شوٹر ابھینو بندرا

1982 : اداکار رنبیر کپور

موت

1983 :سابق وزیر اعلیٰ کیرالہ سی ایچ محمد کویا۔

2012 : ہندوستان کے پہلے قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا

2015 :ہندی کے مشہور کوی ویرین ڈانگوال

ہندوستھان سماچارمحمدخان


 rajesh pande