اب مہلک ایبولا وائرس کا خطرہ بڑھا ، یوگنڈا میں 23 افراد ہلاک
کمپالا ، 27 ستمبر (ہ س)۔ اس وقت دنیا کورونا جیسے وائرس کی وبا سے نبرد آزما ہے کہ اب جان لیوا ایبول
یوگنڈا


کمپالا ، 27 ستمبر (ہ س)۔

اس وقت دنیا کورونا جیسے وائرس کی وبا سے نبرد آزما ہے کہ اب جان لیوا ایبولا وائرس کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یوگنڈا میں ایبولا وائرس سے 23 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے ایک خصوصی ٹیم یوگنڈا بھیجی ہے۔

مشرقی افریقی ملک یوگنڈا سے جان لیوا ایبولا وائرس نے دستک دی ہے۔ یوگنڈا میں ایبولا وائرس کی وبا تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یوگنڈا کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ایبولا وائرس کی وجہ سے 23 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بتایا گیا کہ یوگنڈا کے مبینڈے ، کائگیگوا اور کسانڈا اضلاع میں 18 دیگر کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور 18 مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے۔وائرس کا موجودہ پھیلاو سب سے پہلے ستمبر کے اوائل میں ضلع مبینڈے کے ایک چھوٹے سے گاو¿ں میں ہوا تھا۔ 20 ستمبر کو یوگنڈا کی وزارت صحت نے 2019 کے بعد انتہائی متعدی ایبولا وائرس سے ملک میں پہلی موت کا اعلان کیا۔

یہ اطلاع سامنے آنے کے بعد عالمی ادارہ صحت بھی متحرک ہو گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس وائرس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ کیس کا جلد پتہ لگانے اور علامات کا علاج کرنے سے بچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے یہ بھی کہا کہ ایبولا کی ایک قسم، زائر سٹرین کے خلاف جو ویکسین کارآمد ہے، وہ دوسری قسم کے سوڈان کے خلاف موثر نہیں ہے۔عالمی ادارہ صحت نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم یوگنڈا بھیجی ہے۔ ایبولا وائرس کے انفیکشن والے شخص کو تیز بخار ہوتا ہے ، جس سے خون بھی آنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ جسم میں شدید کمزوری ، پٹھوں میں درد ، سر درد ، گلے میں خراش ، قے ، اسہال جیسے مسائل ہوتے ہیں ، بعض لوگوں کے جسم میں خارش بھی ہوجاتی ہے۔

ہندوستھان سماچارمحمدخان


 rajesh pande