دن بھر کے اتار چڑھاو کے بعد مارکیٹ تقریباً 0.5 فیصد کی کمی کے ساتھ بند
نئی دہلی ، 22 ستمبر (ہ س)۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے فیصلے کی وجہ سے جمعر
شیئر مارکیٹ


نئی دہلی ، 22 ستمبر (ہ س)۔

امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے فیصلے کی وجہ سے جمعرات کو دنیا بھر کی مارکیٹوں پر منفی اثر کا غلبہ رہا۔ ہندوستانی بازار بھی ان منفی اثرات کی وجہ سے اتار چڑھاو¿ کا سامنا کرنے کے بعد تقریباً 0.5 فیصد کے نقصان کے ساتھ بند ہوئے۔اسٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کا آغاز کمزوری کے ساتھ ہوا۔ ٹریڈنگ کے دوران خریداری کی حمایت کے باعث مارکیٹ بھی کچھ دیر کے لیے ہرے نشان پر پہنچ گئی۔ تاہم دوبارہ فروخت کے دباو¿ کے باعث اسٹاک مارکیٹ بالآخر لال نشان پر بند ہوئی۔ دن کے کاروبار کے دوران بینکنگ ، رئیلٹی اور توانائی کے شعبے کے حصص دباو¿ میں رہے۔ دوسری جانب فارماسیوٹیکل ، میٹل ، ایف ایم سی جی اور آٹوموبائل سیکٹرز کے حصص میں خریداری دیکھی گئی۔ مڈ کیپ اورا سمال کیپ انڈیکس بھی ٹریڈنگ کے ایک دن کے بعد خرید سپورٹ پر اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔

اسٹاک مارکیٹ میں دن بھر کے اتار چڑھاو¿ کے بعد، سینسیکس میں شامل 30 میں سے 11 حصص خریداری کی حمایت کے ساتھ ہرے نشان میں بند ہوئے ، جب کہ 19 شیئرز سیلنگ پریشر میں پھنس کر لال نشان پر بند ہوئے۔ اسی طرح نفٹی میں شامل 50 حصص میں سے 22 حصص خرید کی حمایت کے ساتھ ہرے نشان میں بند ہوئے اور 28 حصص فروخت کے دباو¿ کی وجہ سے لا نشان پر بند ہوئے۔بمبئی اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) سینسیکس نے آج عالمی دباو¿ کی وجہ سے 382.94 پوائنٹس کے نقصان کے ساتھ 59,073.84 پوائنٹس پر تجارت شروع کی۔ بازار کھلنے کے ساتھ ہی خریداروں نے تیزی سے خریداری شروع کرکے سینسیکس کو سہارا دینے کی کوشش کی۔ اس خرید کی حمایت سے، سینسیکس صبح 10 بجے تک نچلی سطح سے تقریباً 400 پوائنٹس کی بازیافت کرنے میں کامیاب رہا۔ اس کے بعد فروخت کے دباو¿ کے باعث انڈیکس ایک بار پھر نیچے چلا گیا۔

ہندوستھان سماچارمحمدخان


 rajesh pande