سرسنگھ چالک نے آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف امام عمیر الیاسی سے کی ملاقات
پچھلے مہینے 22 اگست کو بھی سرسنگھ چالک نے اداسین آشرم میں مسلمانوں کی پانچ نامور شخصیات سے ملاقات کی
امام عمیر احمد الیاسی


پچھلے مہینے 22 اگست کو بھی سرسنگھ چالک نے اداسین آشرم میں مسلمانوں کی پانچ نامور شخصیات سے ملاقات کی تھی

نئی دہلی،22ستمبر(ہ س)۔

سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت نے آج آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف امام مولانا ڈاکٹر عمیر احمد الیاسی سے ملاقات کی۔ آر ایس ایس کی جانب سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سرسنگھ چالک نے مولاناعمیر احمد الیاسی سے ملاقات کی ہے اور سرسنگھ چالک ہمیشہ ایسے مذہبی شخصیات سے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔ اس ملاقات کی بڑی بات یہ ہے کہ سرسنگھ چالک نے کرزن روڈ پر واقع مسجد میں جا کر امام الیاسی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ملک میں پھیلی نفرت کی فضا کو کم کرنے اور باہمی ہم آہنگی اور میل جول کو فروغ دینے پر زور دیا گیاتھا۔

مولاناعمیر الیاسی ملک بھر کے اماموں کی ایک بڑی تنظیم آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف امام ہیں۔ وہ اس تنظیم کے ذریعے اماموں کی آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ ان کے والد مولانا جمیل الیاسی نے ائمہ کو سرکاری خزانے سے تنخواہوں کی ادائیگی کا معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھایا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو اماموں کو تنخواہ دینے کا تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلے کے آنے کے بعد اماموں کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا گیا۔امام عمیر الیاسی ملک میں پھیلی نفرت کی فضا کو کم کرنے اور تمام مذاہب کے مذہبی رہنماو¿ں کے ساتھ باہمی روابط کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ اکثر ایسی کانفرنسوں میں بھی شرکت کرتے رہتے ہیں۔ آج سرسنگھ چالک سے ملاقات کا مقصد بھی یہی لگتا ہے۔سرسنگھ چالک بھی یہی چاہتے ہیں کہ ملک میں ہندوو¿ں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کو کم کیا جائے، اس کے لیے دونوں مذاہب کے مذہبی رہنماوں کو متحد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی سلسلے میں گزشتہ ماہ 22 اگست کو سرسنگھ چالک نے مسلمانوں کی پانچ اہم شخصیات سے ملاقات کی تھی۔ اس میٹنگ میں اہم مدعا نفرت اور مآب لنچنگ تھا۔ اس ملاقات کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا۔ لیکن بعد میں اس ملاقات کی باتیں منظر عام پر آئیں۔ بھاگوت سے ملاقات کرنے والوں میں سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی، دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ریٹائرڈ کرنل جمال الدین شاہ، سینئر صحافی اور سابق ایم پی شاہد صدیقی، ماہر تعلیم مصطفی شیروانی شامل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ بھاگوت کی میٹنگ میں مسلمانوں کے ذریعے ہندوو¿ں کو کافر کہے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔ بھاگوت نے کہا تھا کہ ہندوو¿ں کو کافر کا لفظ گالی لگتا ہے۔جس پر ان سے ملنے گئے مسلمانوں نے کہا کہ ہندوو¿ں کے ذریعے مسلمانوں کو پاکستانی اور ملک دشمن کہا جاتا ہے۔مسلمان ان الفاظ کو گالی سمجھتے ہیں۔فیصلہ ہوا کہ آپ اپنے لوگوں کو سمجھائیں۔ اور ان الفاظ کا استعمال کرنے سے گریز کریں۔ بھاگوت نے اس ملاقات میں یہ جانکاری دی تھی کہ وہ آرایس ایس کا ایک 4رکنی کمیٹی کی تشکیل کررہے ہیں جو آپ لوگوں سے رابطے میں رہیں گے اور اس طرح کا جب بھی کوئی معاملہ سامنے آئے گا تو آپس میں مل بیٹھ کر اسے حل کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچارمحمدخان


 rajesh pande