افغان ڈرگ مافیا نورزئی دو دہائیوں بعد امریکی جیل سے رہا ہو کر خفیہ طور پر کابل پہنچا۔
افغان جیل میں قید امریکی انجینئر مارک فریچس کی رہائی کے بدلے میں رہائی۔ بدنام زمانہ ڈرگ مافیا کی رہ
افغان ڈرگ مافیا نورزئی دو دہائیوں بعد امریکی جیل سے رہا ہو کر خفیہ طور پر کابل پہنچا۔ 


افغان جیل میں قید امریکی انجینئر مارک فریچس کی رہائی کے بدلے میں رہائی۔

بدنام زمانہ ڈرگ مافیا کی رہائی سے بھارت سمیت کئی ممالک کی ایجنسیاں الرٹ ۔

نئی دہلی، 21 ستمبر (ہ س)۔ افغانستان سے ایک خبر نے بھارت سمیت کئی ممالک کی سکیورٹی ایجنسیوں کو چوکنا کر دیا ہے۔ بدنام زمانہ ڈرگ مافیا حاجی بشیر نورزئی جو تقریباً دو دہائیوں سے امریکی جیل میں بند تھا ،اسے خفیہ طور پر رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ منشیات مافیا جو کہ طالبان تحریک کا حامی تھا جیل سے رہائی کے بعد کابل پہنچ گیا ہے۔

افغان ڈرگ مافیا حاجی بشیر نورزئی کا نام 10 انتہائی مطلوب منشیات اسمگلروں کی فہرست میں شامل تھا۔ کابل کا یہ بدنام زمانہ ڈرگ مافیا فارن نارکوٹکس کنگ پن ایکٹ کے تحت تھا اور اسے 2005 میں نیویارک سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر 50 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ مالیت کی ہیروئن امریکہ میں اسمگل کرنے کا الزام تھا۔ وہ تقریباً دو دہائیوں تک امریکی جیل میں بند تھا لیکن اچانک اس بدنام زمانہ منشیات اسمگلر کو رہا کر دیا گیا۔ معلومات کے مطابق انہیں افغانستان میں قید امریکی انجینئر مارک فریریچ کی رہائی کے بدلے رہا کیا گیا ہے۔ اسے جنوری 2020 میں اغوا کر کے افغانستان کی ایک جیل میں رکھا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بشیر نورزئی کی رہائی کے اعلان کے لیے کابل میں اجلاس ہوا جس میں قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نورزئی کو امریکی شہری کی رہائی کے بدلے رہا کیا گیا ہے۔ بشیر نورزئی کا تاریک ماضی اور ان کی رہائی بھارت سمیت کئی ممالک کے تحفظات کو جنم دینے والی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کی رہائی سے منشیات کا کاروبار ایک بار پھر ان ممالک کے سر درد میں اضافہ کر سکتا ہے۔ کولمبیا کے ڈرگ مافیا پابلو ایسکوبار کی طرح افغانستان کے بدنام زمانہ ڈرگ مافیا حاجی بشیر نورزئی کو مشرق وسطیٰ کا پابلو ایسکوبار کہا جاتا ہے۔ وہ طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ہندوستھان سماچار


 rajesh pande