سیاچن گلیشیر پر 19061 فٹ کی بلندی پر سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس شروع
سیاچن گلیشیر پر 19061 فٹ کی بلندی پر سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس شروع لداخ، 19 ستمبر (ہ س)۔ دنیا کے
Satellite internet


Satellite internet


سیاچن گلیشیر پر 19061 فٹ کی بلندی پر سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس شروع

لداخ، 19 ستمبر (ہ س)۔ دنیا کے سب سے اونچے میدان جنگ سیاچن گلیشیر پر 19061 فٹ کی بلندی پر سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس شروع ہو گئی ہے۔ مشرقی لداخ کے مشکل حالات میں یہ کامیابی بھارت براڈ بینڈ نیٹ ورک لمیٹڈ نے فوج کے سیاچن سگنل یونٹ کے تعاون سے حاصل کی ہے، جو خطے میں فوج کے مواصلاتی نظام کی ذمہ دار ہے۔

سیاچن میں سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس کے آغاز کے ساتھ، فوج کی 14 کور مشرقی لداخ میں چین اور مغربی لداخ میں پاکستان کے ساتھ ملک کی سرحدوں پر حفاظتی نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل فوج ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم کے سیٹلائٹس کے ساتھ ہندوستانی فضائیہ کے مواصلاتی سیٹلائٹ جی ایس اے ٹی-7 اے پر منحصر تھی۔ اب ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھارتی فوج زمین کے ساتھ ساتھ آسمان سے بھی دشمن پر نظر رکھ سکے گی۔

مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں ہندوستانی اور چینی افواج کے درمیان پرتشدد جھڑپ کے بعد خطے میں فوج کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع مہم جاری ہے۔ ایسے میں مواصلاتی نظام کو جدید ہتھیاروں، گولیوں، بارود سے بہتر بنانے کے لیے بھی کام زوروں پر ہے۔ فی الحال ہگس کمنیکیشن انڈیا مشرقی لداخ میں گالوان جیسے حساس علاقوں میں آئی ایس آر او کے کی ایس ایٹ 11 اور جی ایس اے ٹی 29 کی مدد سے سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس فراہم کر رہا ہے۔

مرکزی حکومت کا بھارت براڈ بینڈ نیٹ ورک لمیٹڈ، فی الحال ملک کے ایسے ناقابل رسائی علاقوں میں سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس فراہم کر رہا ہے۔ یہاں فائبر سے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنا ممکن نہیں۔ بھارت نیٹ پروجیکٹ کے تحت لداخ میں ملک کی سرحدوں سے متصل علاقوں میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس دستیاب کرائی گئی ہے جس کی وجہ سے سرحد سے ملحقہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ فوج کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ہندوستانی فوج کی آپریشنل تیاریوں کو بہتر بنانے کے لیے جی ایس اے ٹی -7 بی سیٹلائٹ کے حصول کی منظوری دے دی ہے۔ اس کا اپنا سیٹلائٹ ہونے سے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے فوج کی طاقت میں اضافہ ہوگا۔ دو سالوں کے دوران، چین نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ اپنے مواصلاتی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے آپٹیکل فائبر بچھا کر 4 جی ، 5 جی انٹرنیٹ سروس کو یقینی بنایا ہے۔ ایسے میں ہندوستانی فوج نے اٹھارہ ہزار فٹ سے اوپر کے علاقوں کی مواصلاتی ضروریات کے پیش نظر تیز رفتار انٹرنیٹ سروس کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔ حال ہی میں چین نے مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر تین موبائل ٹاور بھی لگائے ہیں۔

ایسے میں دفاعی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مشرقی لداخ میں منفی 20 سے منفی 25 ڈگری تک درجہ حرارت میں اٹھارہ ہزار فٹ سے اوپر والے علاقوں میں بھارتی فوج کو تیز رفتار انٹرنیٹ سروس فراہم کی جا رہی ہے۔ اٹھارہ ہزار فٹ سے اوپر کی دس فٹ برف اور پچاس سے ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی تیز ہواؤں میں فوج کی ضروریات صرف تیز رفتار انٹرنیٹ سروس سے پوری کی جا سکتی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

/شہزاد


 rajesh pande