حافظ مکرم رکشہ چلانے پر مجبور
پٹنہ، 18 ستمبر(ہ س)۔ پٹنہ کے سب سے مصروف ترین علاقوں میں سے ایک گاندھی میدان واقع کارگل چوک پر یوں
حافظ مکرم رکشہ چلانے پر مجبور


پٹنہ، 18 ستمبر(ہ س)۔

پٹنہ کے سب سے مصروف ترین علاقوں میں سے ایک گاندھی میدان واقع کارگل چوک پر یوں تو صبح و شام ہزاروں گاڑیاں رینگتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ دوڑ بھاگ کی زندگی میں سب بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر ان میں سے ایک ای رکشا ڈرائیور جب آنے جانے والے مسافروں کو پٹنہ جنگشن کی آواز لگاتا ہے تو لوگوں کی نظریں کچھ دیر کے لیے ٹھہر جاتی ہیں، آواز لگانے والاسر پر ٹوپی اور جسم پر کرتا پاجامہ زیب تن کئے رہتا ہے۔آواز دینے کے باوجود جب کوئی سواری نہیں ملتی تو رکشا کے اندر بیٹھ کر ہی موبائل فون پر قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگتا ہے۔ رکشا چلانے والاکوئی عام ڈرائیور نہیں بلکہ حافظ قرآن ہے، جس کا نام محمد مکرم ہے۔

قرآن و حدیث میں جہاں حافظ قرآن کی بڑی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کل قیامت کے دن سورج سے بھی زیادہ چمکدار اور روشن تاج حافظ قرآن کو پہنایا جائے گا مگر غربت و افلاس میں زندگی بسر کرنے والاحافظ مکرم سورج کی تپش اور چلچلاتی دھوپ کے نیچے کھڑے ہو کر اپنے اہل و عیال کی کفالت اور دو وقت کی روٹی کے لیے رکشا چلانے پر مجبور ہے۔

حافظ مکرم بتاتے ہیں کہ انہوں نے کرجی کے ایک مدرسہ سے حفظ مکمل کی۔ اس کے بعد بچوں کو دینی تعلیم دے رہے تھے، ساتھ ہی ایک مسجد میں موذن کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دے رہے تھے۔ لاک ڈاؤن سے قبل سب کچھ ٹھیک تھا مگر کورونا وبا سے جہاں پوری دنیا متاثر ہوئی، اس کا اثر ان کے درس و تدریس پر بھی پڑا۔ کورونا بحران کے دوران زیادہ تر غریب گارجین نے بچوں کو پڑھانا چھوڑ دیا تو وہیں مسجد بند ہونے کی وجہ کر مسجد بھی چھوڑنی پڑی۔

حافظ مکرم بتاتے ہیں کہ حافظ قرآن ہوکر رکشا چلانا ان کی مجبوری ہے، کافی دنوں تک وہ ذریعہ معاش کے لئے جب کوئی بہتر جگہ نہیں ملی تو بوڑھے ماں باپ اور اہلیہ سمیت بچوں کی پرورش کے لئے انہیں نے یہ راستہ اختیار کیا۔ آج بھی ان کی خواہش ہے کہ وہ بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں۔ مگر انہیں کوئی موقع نہیں مل رہا۔ اگر دینی تنظیموں کی جانب سے انہیں درس و تدریس کے تعلق سے کوئی پیشکش آئی تو وہ انہیں نہ صرف قبول کریں گے بلکہ اسے اپنے لئے سعادت سمجھیں گے۔

آج ضرورت ہے کہ معاشرے کے دانشور و سماجی و ملی تنظیموں کے سربراہ حافظ مکرم جیسے لوگوں کی صلاحیت کا استعمال صحیح جگہ لیں، تاکہ بے روزگاری کے سبب کسی بھی حافظ قرآن یا عالم دین کو رکشا چلانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

ہندوستھان سماچار/ افضل


 rajesh pande