Custom Heading

خاتون صحافی کے جنازے پر اسرائیلی فورسز کا حملہ
مقبوضہ بیت المقدس،14مئی (ہ س)۔ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے قتل ہونے والی خاتون صحافی شیرین
خاتون صحافی


مقبوضہ بیت المقدس،14مئی (ہ س)۔

اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے قتل ہونے والی خاتون صحافی شیرین ابو عاقلہ کے جنازے پر اسرائیلی پولیس نے حملہ کرتے ہوئے شرکاءکو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے شہید خاتون صحافی کا تابوت زمین پر گر گیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شیرین ابوعاقلہ کی نماز جنازہ میں 10ہزار افراد نے شرکت کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کیا، جنازے کے شرکاءپر اسرائیلی پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس سے بھگدڑ مچ گئی اور کئی افراد زخمی ہوئے، بھگدڑ مچنے کی وجہ سے تابوت سنبھالنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔

خیال رہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے الجزیرہ کی خاتون صحافی جاں بحق ہوگئی تھیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شیرین ابوعاقلہ کو اسرائیلی فوج کے ا?پریشن کی کوریج کے دوران سر میں گولی لگی تھی، جائے وقوعہ سے ملنے والی فوٹیج میں شیریں ابوعاقلہ کو پریس شرٹ اور ہیلمٹ پہنے دیکھا گیا تھا۔شیریں ابوعاقلہ کئی دہائیوں تک اسرائیل اور فلسطینیوں کو کور کیا،خاتون صحافی کے ساتھیوں اور دوستوں نے ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے صحافت کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی مندوب لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے قابض اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں فلسطینی نڑاد امریکی خاتون صحافی کے قتل پر کہا تھا کہ خاتون صحافی کے قتل کی شفاف طریقے سے تحقیقات ہونی چاہیے، فریقین کو تحقیقات میں حصہ لینے کی ترغیب دی جارہی ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ خاتون صحافی کے قتل کے ذمہ دار مکمل طور پر اسرائیلی حکام ہیں، صحافی کے قتل کی اسرائیلی حکام کیساتھ تحقیقات مسترد کرتے ہیں۔محمود عباس نے مزید کہا کہ ہمیں اسرائیل پر اعتماد نہیں ہے، فلسطینی اتھارٹی فوری انٹرنیشنل کرمنل کورٹ جائے گی۔واضح رہے کہ فلسطینی نڑاد امریکی خاتون صحافی کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کیساتھ ادا کردی گئی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صحافی شیریں ابوعاقلہ کی ا?خری رسومات رملہ میں صدارتی کمپاو?نڈ میں ادا کی گئیں، فلسطینی نڑاد امریکی خاتون صحافی کو ا?خری رسومات سے قبل گارڈ آف آنرپیش کیا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار


 rajesh pande