Custom Heading

پپو یادو نے بی پی ایس سی پیپر لیک معاملے کی سی بی آئی جانچ کاکیا مطالبہ
پٹنہ ، 14 مئی (ہ س)۔ جن ادھیکار پارٹی کے قومی صدر راجیش رنجن عرف پپو یادو نے بی پی ایس سی پیپر لیک
پپو یادو نے بی پی ایس سی پیپر لیک معاملے کی سی بی آئی جانچ کاکیا مطالبہ


پٹنہ ، 14 مئی (ہ س)۔

جن ادھیکار پارٹی کے قومی صدر راجیش رنجن عرف پپو یادو نے بی پی ایس سی پیپر لیک معاملے میں حکومت سے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ ہفتہ کے روز پٹنہ کے مندری میں پارٹی دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے ذات پر مبنی مردم شماری ، بی پی ایس سی پیپر لیک معاملہ اور وشواسارایا بھون میں آگ لگنے کے واقعات پر سوالات اٹھائے۔

راجیش رنجن نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری فی الحال کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود اسے واقعہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس کے ذریعے بی پی سی اے سی پیپر لیک معاملے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پپو یادو نے کہا کہ لالو یادو ہمیشہ کنگ میکر کے رول میں رہے۔ بہار میں 15 سال سے لالو یادو کی حکومت تھی تو انہوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کیوں نہیں کرائی؟

انہوں نے تیجسوی سے کہا کہ وہ ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے بہار کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اگر وہ واقعی چاہتے ہیں کہ ذاترپر مبنی مردم شماری کی بنیاد پر ریزرویشن دیا جائے تو سب سے پہلے انہیں اپنی پارٹی میں پسماندہ اور انتہائی پسماندہ سماج سے آنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کو وزیر اعلیٰ کا چہرہ قرار دینا چاہیے۔

جاپ صدر نے الزام لگایا کہ کوچنگ مافیا اور عہدیداروں کی ملی بھگت سے بہار کے نوجوانوں کا کریئر تباہ کیا جا رہا ہے۔ بہار کے نوجوانوں میں ناراضگی ہے۔ سرکاری عہدوں پر بحالی کے لیے کروڑوں روپے کی بولی لگائی جاتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں میں ملی بھگت ہے ۔ اس لیے اس معاملے کی جانچ ہائی کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی سے کرائی جائے۔

انہوں نے وشوشورایا بھون میں آتشزدگی کے واقعہ پر بھی سوال اٹھایا۔ یہ بھی کہا کہ آگ لگنا تو ممکن ہے لیکن تین دن سے آگ نہ بجھائی جانے سے سوال اٹھتا ہے۔ بہار میں ہی سرکاری عمارتوں میں بار بار آگ کیوں لگتی ہے؟

ہندوستھان سماچار/ افضل/محمد


 rajesh pande