Custom Heading

ٹروکالر ایپ نے خواتین کمیشن کے ہیلپ لائن نمبر '181' تک رسائی بڑھائی
نئی دہلی، 11 مئی (ہ س)۔ٹروکالر ایپ میں '181' خواتین ہیلپ لائن کوئیک ڈائل فیچر کوشامل کیے جانے کے بعد
Truecaller app extends reach of DCW helpline number '181'


نئی دہلی، 11 مئی (ہ س)۔ٹروکالر ایپ میں '181' خواتین ہیلپ لائن کوئیک ڈائل فیچر کوشامل کیے جانے کے بعد سے دہلی کمیشن برائے خواتین (ڈی سی ڈبلیو) کی ہیلپ لائن نمبر '181' پر اب دوگنی تعداد میں فون کالس موصول ہو رہی ہیں۔ اس سال مارچ کے مہینے سے ٹروکالر نے اپنے ڈائلر پر خواتین کی حفاظت کے لئے ہیلپ لائن نمبر-181- کوڈسپلے کرنا شروع کر دیا ہے،جو کمپنی کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جرائم کے خلاف شروع کی گئی #ItsNotOk کی مہم کا حصہ ہے۔

ٹروکالر کے ڈائلر پر خواتین کی ہیلپ لائن نمبر '181' کو ڈسپلے کرنے کے بعد، دہلیمیں ڈی سی ڈبلیو ہیلپ لائن نمبر پر آنے والی فون کالوں کی تعداد میں زبردست اضافہ درج کیا۔ اس نمبر کو ٹروکالر سے لنک کرنے سے پہلے ڈی سی ڈبلیو کے ہیلپ لائن نمبر '181' پر روزانہ تقریباً دو ہزار فون کالس آتی تھیں، لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر روزانہ چار ہزار سے زائد کالس ہو گئی ہے۔

اس طرح ہیلپ لائن نمبر پر روزانہ موصول ہونے والی فون کالس کی تعداد تقریباً دوگنی ہوگئی ہے۔ مارچ کے مہینے میں موصول ہونے والی 65500 فون کالس میں سے زیادہ تر خواتین اور لڑکیوں کی حفاظت میں خواتین کے ہیلپ لائن نمبر '181' کے کردار کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔

دہلی کی خواتین اور لڑکیاں گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی اور خواتین کے خلاف دیگر جرائم سے متعلق معاملات میں خواتین کی ہیلپ لائن نمبر '181' سے مدد مانگتی ہیں۔ ڈی سی ڈبلیو فون کالس کے ذریعے موصول ہونے والے ہر کیس کو سنبھالتا ہے اور اس عمل کے ذریعے سینکڑوں خواتین اور لڑکیوں کی مدد کرتا ہے۔

مثال کے طور پر، اپریل 2022 میں، خواتین کی ہیلپ لائن نمبر '181' پر ایک خاتون کے بھائی کا کال آیا جس نے بتایا کہ اس کی 31 سالہ بہن کو چھتیس گڑھ میں اس کے سسرال کے گھر میں قید کر رکھا ہے اور اس کے شوہر کے ذریعہ مارا پیٹا جا رہاہے۔ خواتین کی ہیلپ لائن نمبر '181' کی ٹیم نے فوری طور پر چھتیس گڑھ کے سینئر پولیس افسران سے بات کی اور خاتون کو بازیاب کرانے تک اس معاملے کی سرگرمی سے کاروائی جاری رکھ۔یہ خاتون اب دہلی میں اپنے مائیکے واپس آگئی ہے۔

ٹروکالر انڈیا کی پبلک افیئر س کی ڈائریکٹر پرگیہ مشرا نے بتایا، آج، ہندوستان میں 10 کروڑسے زیادہ خواتین فون کالس اور 'ایس ایم ایس' کے ذریعے ہراساں کیے جانے کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے لیے سب سے پہلے ٹروکالرسے مدد لیتی ہیں۔ ٹروکالر ڈائلر پر ایمرجنسی ہیلپ لائن نمبر فراہم کرانا اور ایمرجنسی کی صورت میں خواتین کے ہیلپ لائن نمبر '181' تک صرف ایک کلک سے رسائی کی سہولت فراہم کرنا ہمارے صارفین کو حقیقی معنوں میں محفوظ رکھنے کی جانب ایک اور قدم ہے۔

اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے ڈی سی ڈبلیوکی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے کہا، ”میں ٹروکالر کی طرف سے فعال طور پر اٹھائے گئے اس شاندار قدم کی تعریف کرتی ہوں۔ پچھلے چھ سالوں میں ڈی سی ڈبلیونے اپنے 181 خواتین ہیلپ لائن نمبر کے ذریعے لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کی مدد کی ہے۔ ٹروکالر کی اس پہل کی وجہ سے کمیشن کے ہیلپ لائن نمبر پر آنے والی فون کالس کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے اور اس طرح کمیشن کی پہنچ کا دائرہ بھی کافی بڑھ گیا ہے۔ ہم پوری اخلاص اور ایمانداری کے ساتھ بحران کا سامنا کرنے والی ہر عورت اور لڑکی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں“۔

ہندوستھان سماچار


 rajesh pande