ہنر اور صلاحیت کے تبادلے کو فروغ دینے کےلئے بھارت اور جرمنی کا معاہدہ
جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات سمیت علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال ک
وزیرخارجہ


جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات سمیت علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا: ایس۔ جے شنکر

نئی دہلی،05دسمبر(ہ س)۔

: جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک دو روزہ دورے پر ہندوستان میں ہیں۔ بھارت پہنچنے کے بعد انہوں نےاپنے ہم منصب ایس۔ جے شنکر سے ملاقات کی اور کئی اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا، ساتھ ہی کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ وزارت خارجہ کے مطابق، ہندوستان اور جرمنی نے پیر کو ایک جامع مائیگریشن اور موبلٹی پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط کیے، جس سے 2019 میں مائیگریشن اور موبلٹی پارٹنرشپ پر شراکت داری کے اعلان کو نافذ کیا گیا۔ معاہدے پر دستخط کرنے میں ہندوستان میں جرمنی کے سفیر ڈاکٹر فلپ ایکرمین اور ہندوستان اور جرمنی کی حکومتوں کے دیگر سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ اس معاہدے میںصلاحیت اور ہنر کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے نقل و حرکت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مخصوص دفعات ہیں۔

وزیر خارجہ نے ملاقات کے بارے میں معلومات دیں۔

ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ٹویٹ کیا کہ’جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک کے ساتھ تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ہم نے اس بار اپنے جاری مکالمے کو مزید تفصیل سے آگے بڑھایا۔ کئی اہم علاقائی اور عالمی امور پر دو طرفہ تعلقات اور ہمارے مشترکہ نقطہ نظر کا بھی جائزہ لیاگیا‘۔

ہند-جرمن مائیگریشن اینڈ موبلٹی معاہدے کے تحت جرمنی ہر سال ہندوستانیوں کے لیے 3000 ملازمت کے متلاشی ویزا فراہم کرے گا۔ یہ جرمن میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلباءکو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 18 ماہ کا توسیعی رہائشی اجازت نامہ بھی فراہم کرے گا۔ جرمن ہنر مند امیگریشن ایکٹ 2020 کے تحت غیر EU ممالک کے کارکنوں کے لیے مواقع کو بڑھا دیا گیا ہے۔ جرمن حکومت نے 2023 کے اوائل میں نافذ ہونے والے ایک نئے قانون کے ذریعے بیرون ملک سے اہل کارکنوں کی نقل مکانی میں نمایاں طور پر سہولت فراہم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ انڈو-جرمن ایم ایم پی اے ممکنہ لیبر مارکیٹ کی منزل کے ممالک کے ساتھ معاہدوں کے نیٹ ورک کی تعمیر کی مجموعی کوشش کا حصہ ہے، جس کا دوہرا مقصد ہندوستانیوں کے لیے ان ممالک کی لیبر مارکیٹوں تک رسائی کے لیے ایک سازگار ویزا نظام تشکیل دینا ہے۔

ہندوستھان سماچارمحمدخان


 rajesh pande