تاریخ کے آئینے میں 23 نومبر: صرف فلپائن ہی نہیں ، دنیا بھر کے صحافیوں کے لیے یوم سیاہ
23 نومبر کی تاریخ ملکی اور دنیا کی تاریخ میں کئی اہم وجوہات کی بنا پر درج ہے۔ لیکن یہ تاریخ نہ صرف ف
فلپائنس


23 نومبر کی تاریخ ملکی اور دنیا کی تاریخ میں کئی اہم وجوہات کی بنا پر درج ہے۔ لیکن یہ تاریخ نہ صرف فلپائن کے صحافیوں بلکہ پوری دنیا کے میڈیا ورکرز کے لیے یوم سیاہ کے طور پر درج ہے۔ سال 2009 میں 23 نومبر کو ہی فلپائن میں 32 میڈیا اہلکارمارے گئے تھے۔ دنیا بھر میں بیک وقت اتنے صحافیوں کا قتل اس کیس کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ عراق کے بعد فلپائن صحافیوں کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک ملک ہے۔ رپورٹرز ودآو¿ٹ بارڈرز کے مطابق فلپائن میں 1987 سے اب تک کم از کم 187 صحافی مارے جا چکے ہیں۔

اس سال اکتوبر کے پہلے ہفتے میں منیلا کے مضافات میں 62 سالہ ریڈیو صحافی پرسیول مباسا کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ مباسافلپائن کے سابق صدر روڈریگو ڈوٹرٹے کے شدید ناقد تھے۔ اس سے قبل ستمبر میں ریڈیو صحافی رے بلانکو کو وسطی فلپائن میں چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

اہم واقعات

1165 : پوپ الیگزینڈر III جلاوطنی کے بعد روم واپس لوٹے۔

1744 : برطانوی وزیر اعظم جان کارٹر کا استعفیٰ۔

1857: کولن کیمبل کی قیادت میں انگریزوں نے لکھنو¿ کو انقلابیوں کے قبضے سے آزاد کرایا۔

1946: فرانسیسی بحری حملے میں ویتنام کے 6000 شہری مارے گئے۔

1971 : چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن بنا۔

1980: اٹلی میں زلزلہ۔ 2600 لوگ ہلاک ہو گئے۔

1983: ہندوستان میں پہلی دولت مشترکہ سربراہی کانفرنس کا انعقاد

2001: ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے مغربی کنارے میں ایک گاڑی پر دو میزائل داغے جس میںحماس کے اہم رکن محمود ابو ہنود ہلاک ہو گئے۔

2006: امریکہ نے روس کی جیٹ بنانے والی کمپنی سخوئی پر سے پابندی اٹھا لی۔

2009: فلپائن میں میڈیا کے 32 افراد کو قتل کر دیا گیا۔

2011: یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کو 33 سال کی حکمرانی کے بعد مستعفی ہونا پڑا۔

پیدائش

1897: مشہور بنگالی اور انگریزی مصنف نیرد چندر چودھری۔

1914: ہندی کے ممتاز افسانہ نگارکرشن چندر

موت

1912: انقلابی مصنف ، مورخ اور صحافی سکھرام گنیش دیوسکر

1937: ممتاز سائنسدان جگدیش چندر بوس۔

ہندوستھان سماچارمحمدخان


 rajesh pande