اسکول فیس کی بجائے بچوں سے کچرا منگوایا جاتا ہے
گیا، 22 نومبر(ہ س)۔ بہار کے گیا ضلع میں کئی این جی اوز سماجی خدمات انجام دیتی ہیں خاص طور پر بودھ گ
اسکول فیس کی بجائے پر بچوں سے کچرا منگوایا جاتا ہے


گیا، 22 نومبر(ہ س)۔ بہار کے گیا ضلع میں کئی این جی اوز سماجی خدمات انجام دیتی ہیں خاص طور پر بودھ گیا میں ملک وبیرون ملک کی تنظیمیں ہیں جو تعلیم پر خصوصی کام کرتی ہیں۔کئی تنظیموں کی جانب سے اسکول اور برسرروزگار کرنے کے لئے کوچنگ وغیرہ کا انتظام ہے جہاں مفت تعلیم دی جاتی ہے لیکن بودھ گیا میں ہی ایک این جی او 'پدماپانی ایجوکیشنل اینڈ سوشل فاؤنڈیشن 'ہے۔ اس کا بھی ایجوکیشن پر خاص دھیان ہے۔ اس کے ماتحت ایک اسکول ہے جو آٹھ برسوں سے چل رہا ہے۔ یہاں بھی مفت تعلیم دی جاتی ہے لیکن یہاں مفت تعلیم ایک شرط پر دی جاتی ہے کہ طلبہ اپنے گھروں کے پلاسٹک کے فضول سامان اسکول کے کچرے کے ڈبے میں لاکر ڈالیں۔

یہ بات سننے میں بہت ہی عجیب لگتا ہے تاہم یہ حقیقت ہے۔ کیوں کہ ہم آپ نے بہت سے اسکول اور کوچنگ سینٹر کو مفت (بغیر فیس کے) چلتے دیکھا اور سنا ہوگا لیکن جب آپ یہ سنیں کہ اسکول کی فیس کے نام پر بچوں سے پیسے نہیں بلکہ کچرا مانگا جاتا ہے تو آپ یقیناً حیران ہوں گے۔

دراصل بودھ گیا کے بساڑھی گرام پنچایت کے سیوا بیگھہ میں بھی ایسا ہی ایک اسکول ہے، جہاں بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے لیکن ان سے بدلے میں خشک کچرا منگوایا جاتا ہے۔

بچے باقاعدگی سے گھر اور سڑکوں سے لایا گیا کچرا سکول کے گیٹ کے پاس رکھے کوڑے دان میں ڈال دیتے ہیں۔ پدماپانی ایجوکیشنل اینڈ سوشل فاؤنڈیشن کے زیر انتظام چلنے والے پدماپانی اسکول کے بچے گھر سے یا راستے میں جو بھی پلاسٹک کا کچرا لاتے ہیں اور اسے اسکول کے باہر کوڑے دان میں ڈالنا پڑتا ہے۔ بعد میں اس کچرے کو ری سائیکل کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے اور کچرا فروخت کرکے جمع ہونے والی رقم بچوں کی تعلیم، خوراک، کپڑوں اور کتابوں پر خرچ ہوتی ہے۔

واضح ہو کہ اسکول میں بجلی کا کنکشن نہیں ہے، لیکن اسکول شمسی توانائی سے چلایا جاتا ہے۔ ادارے کے شریک بانی راکیش رنجن کا کہنا ہے کہ یہ اسکول 2014 میں شروع کیا گیا تھا لیکن یہ کام بچوں سے خشک کچرا منگوانے کا کام سال 2018 سے جاری ہے۔ یہ اسکول بودھ گیا علاقے میں واقع ہے، جہاں ہر روز ملک و بیرون ملک سے ہزاروں عقیدت مند پہنچتے ہیں جسکی صاف صفائی یقینا لازمی ہے تاکہ آنے والے سیاح اچھی شبیہ اور یادیں لیکر جائیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی یہ بھی کوشش ہے کہ ملک کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنایا جائے اسی لیے سووچھ بھارت مشن نافذ کیا گیاہے بچوں کو اس لیے اس مہم میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ وہ صفائی کو لیکر ابھی سے حساس ہوں گے اور وہ اگر سمجھ گئے تو ان کے سرپرستوں کو سمجھنے میں آسانی ہوگی، بچوں کی باتوں کا کوئی برا بھی نہیں مانے گا اور آہستہ آہستہ سماج بیدار ہوگا، انہوں نے کہا کہ بودھ گیا کا علاقہ صاف ستھرا اور خوبصورت نظر آنا چاہیے۔

اس مہم کے تحت بچوں کے والدین بھی جب کوڑا کچرا نکالتے ہیں تو وہ بھی سڑکوں پر کچرا پھینکنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردگرد کے لوگوں کو بھی بچوں کے ذریعہ کچرا اٹھانے کے بارے میں علم ہوا ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں سڑکوں پر کچرا کم نظر آتا ہے کیونکہ مقامی باشندے بھی بچوں کی اس مہم کی قدر کررہے ہیں سماج میں کوئی چیز آسانی سے ختم نہیں ہوتی لیکن نیک ارادہ کے ساتھ کام کیا جائے تو یقینا کامیابی ملتی ہے واضح ہوکہ اسکول میں ڈھائی سو لڑکے ولڑکیاں زیرتعلیم ہیں یہاں اس مہم کی وجہ سے راستے پر ایک پلاسٹک بھی نظر نہیں آتی ہے۔

ہندوستھان سماچار/ افضل/سلام


 rajesh pande