Custom Heading

گھریلو تشدد معاملے میں ہنی سنگھ کے خلاف ان کیمرہ سماعت کا حکم
نئی دہلی ، 28 ستمبر ( ہ س) ۔دہلی کی تیس ہزاری عدالت نے بالی ووڈ گلوکار یو یو ہنی سنگھ( ہردیش سنگھ) ک
Court orders in camera hearing in Honey Singh case


نئی دہلی ، 28 ستمبر ( ہ س) ۔دہلی کی تیس ہزاری عدالت نے بالی ووڈ گلوکار یو یو ہنی سنگھ( ہردیش سنگھ) کے خلاف ان کی اہلیہ شالنیسنگھ کی جانب سے گھریلو تشدد ایکٹ کے تحت درج معاملے کی ان کیمرہ سماعت کا حکم دیا ہے۔ میٹروپولیٹن مجسٹریٹ تانیا سنگھ نے اس معاملے پر 29 ستمبر کو سماعت کا حکم دیا۔

ہنی سنگھ کی اہلیہ شالنی تلوار نے ان کیمرہ سماعت سے اتفاق کیا۔ عدالت نے دونوں فریقوں سے مفاہمت کا امکان جاننے کی کوشش کی۔ عدالت نے کہا کہ اگر صلح کی ذرا سی گنجائش بھی ہو تو اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتاہے۔ ان کیمرہ سماعت کا مطلب ہے کہ سماعت کے دوران دونوں فریقوں کے علاوہ کوئی تیسرا فریق عدالت میں موجود نہیں ہو گا۔

گذشتہ3 ستمبر کو عدالت نے ہنی سنگھ کے والدین کو بھی طلب کیا تھا۔ عدالت نے ہنی سنگھ اور ان کے والدین کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ ہنی سنگھ 3 ستمبر کو عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کی پیشی کے بعد جج نے اپنے چیمبر میں لے جا کر ہنی سنگھ اور ان کی بیوی سے ایک ساتھ اور الگ الگ بات کی۔ عدالت نے پایا تھا کہ گھر چھوڑنے کے حقائق کے حوالے سے ہنی سنگھ اور ان کی اہلیہ کے بیانات میں تضاد ہے۔ شالنی سنگھ نے کہا تھا کہ انہیں 20 مارچ کو گھر سے باہر نکال دیا گیا ۔ دوسری طرف ہنی سنگھ نے کہا تھا کہ شالنی نے 16 مارچ کو اپنی مرضی سے گھر چھوڑا تھا۔

سماعت کے دوران ، ہنی سنگھ اور ان کی بیوی کے درمیان اس بات پر اتفاق قائم ہواکہ شالنی اپنے دو وکیلوں اورسیکورٹی کے افسر کے ساتھ ہنی سنگھ کے گھر 5 ستمبر کو جائیں گی اور اپنا سامان لے کر آئیں گی۔ عدالت نے کہا تھا کہ وہ جہاں چاہیں، اپنا سامان رکھ سکتی ہیں۔ عدالت نے کہا تھا کہ شالنی کے سسرال کے گھر جانے کی پوری ویڈیو گرافی کی جائے گی اور اس ویڈیو گرافی کا خرچہ شالنی برداشت کریں گی۔ عدالت نے کہا تھا کہ شالنی ہنی سنگھ کے گھر سے جو سامان لائیں گی ان پر دونوں کے دستخط ہوں گے۔

درخواست میں شالنی تلوار نے ہنی سنگھ سے 10 کروڑ روپے معاوضہ مانگا ہے۔ درخواست میں دہلی میں رہائش کی مانگ کی گئی ہے اور ماہانہ 5 لاکھ روپے ماہانہ اخراجات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

 rajesh pande