Custom Heading

کنڈلی بارڈر قتل معاملہ :عدالت میں نہنگوں نے کہا کہ اب نہیں ہوگی کسی کی خود سپردگی
چنڈی گڑھ،17اکتوبر(ہ س)۔ کنڈلی بارڈر قتل معاملہ کے چار ملزموں کے ذریعہ خودسپردگی کئے جانے کے بعد ان
کنڈلی بارڈر قتل


چنڈی گڑھ،17اکتوبر(ہ س)۔

کنڈلی بارڈر قتل معاملہ کے چار ملزموں کے ذریعہ خودسپردگی کئے جانے کے بعد ان کے ساتھیوں نے اعلان کردیا ہے کہ اس معاملے میں اب کسی کو بھی سرینڈر نہیں کروایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی دھمکی بھی دی کہ پولس نے اگر انہیں پریشان کیا یا کسی دیگر ساتھی کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو دوسرے ساتھیوں کو بھی پولس سے چھڑوالیا جائے گا۔ نہنگا اتوار کو اپنے ساتھیوں کی پیشی کے دوران سونی پت عدالت احاطہ میں پہنچا ہوا تھا۔

دراصل، سنگھو بارڈر پر چل رہے کسان آندولن کے اسٹیچ کے پاس جمعہ کو ہوئی لکھبیر سنگھ نام کے شخص کا بے رحمی سے قتل کئے جانے کے معاملے میں سونی پت کرائم برانچ اور پولیس آج دوپہر نہنگ سردار نارائن سنگھ، بھگونت سنگھ اور گووند پریت سنگھ کو عدالت میں لے کر پہنچی تھی۔ اس دوران پولیس نے سول جج جونیئر ڈویڑن کمی سنگلا کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے 14 دن کی ریمانڈ طلب کی، لیکن عدالت نے صرف 6 دن کی ریمانڈ منظور کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جج نے کہا ہے کہ تینوں ملزمین کی ہر روز میڈیکل چیک اپ کرنے کے ساتھ ڈی ڈی انٹری ہوگی۔یہی نہیں، عدالت میں پیشی کے دوران تینوں ملزمین نے جج کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے جج کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے لکھبیر سنگھ کا قتل کیا ہے۔ اس دوران ملزم نہنگ نارائن سنگھ نے کہا کہ میں نے پیر کاٹا تھا، تو بھگونت سنگھ اور گووند سنگھ نے اسے لٹکایا تھا۔

اس سے قبل حادثہ کے دن (جمعہ کو) گرفتار کئے گئے نہنگ سربجیت سنگھ کو سونی پت پولیس نے ہفتہ کے روز عدالت میں پیش کیا تھا، جس کو عدالت نے سات دن کی ریمانڈ بھیجی ہے۔ سربجیت کے لئے سونی پت پولیس نے 14 دن کی ریمانڈ طلب کی تھی۔ ملزم نے اس بے رحمانہ قتل میں کچھ مزید لوگوں کو شامل ہونے کا اشارہ دیا تھا۔ پنجاب کے رتن تارن ضلع کے مزدور لکھبیر سنگھ کی لاش جمعہ کو دہلی - ہریانہ سرحد پر ایک اسپیڈ بریکر سے بندھا ہوا پایا گیا، جہاں زرعی قانون مخالف مظاہرین ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ لکبھیر سنگھ کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ملا تھا اور جسم پر دھار دار ہتھیاروں کے کئی زخم ملے تھے۔ اس حادثہ کے لئے نہنگوں کے ایک گروپ کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا تھا۔

ہندوستھان سماچارمحمدخان

 rajesh pande