अंतरराष्ट्रीय

Blog single photo

بنگلہ دیش میں یونیورسٹی طالب علم کے قتل پر احتجاج

09/10/2019

بنگلہ دیش میں یونیورسٹی طالب علم کے قتل پر احتجاج
ڈھاکہ ،09اکتوبر (ہ س )۔
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بنگلہ دیش یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں طالب علم کے قتل کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق 21 سالہ ابرار فہد کو سوشل میڈیا میں حکومت پر تنقید کرنے کے بعد چھٹی کے روز ہوسٹل میں مردہ پایا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق ابرار فہد کے قتل کے شبہے میں بنگلہ دیش کی حکمراں جماعت عوامی لیگ کی طلبہ ونگ سے تعلق رکھنے والے متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔بنگلہ دیش کی مشہور یونیورسٹی میں طالب علم کے قتل پر سوگ کا سماں ہے اور ہزاروں طلبہ نے احتجاج کیا جبکہ سرکاری جامعات میں رونما ہونے والے قتل کے واقعات بھی آشکار ہو رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوامی لیگ کی اسٹوڈنٹ ونگ بنگلہ دیش چترا لیگ (بی سی ایل) پر طلبہ پر تشدد اور ان سے بھتہ خوری کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں، تاہم حکومت نے یقین دلایا ہے کہ وہ ابرار فہد کے قتل کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے پر کھڑا کرے گی۔ابرار فہد کی لاش بنگلہ دیش یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈھاکا میں اتوار کو برآمد ہوئی تھی۔تجزیہ نگار میر صابر کا کہنا تھا کہ سرکاری جامعات میں حکمران جماعت کے اسٹوڈنٹ ونگ کارکنوں کی جانب سے تشدد کا واقعہ بنگلہ دیش میں کوئی نئی بات نہیں ہے، جامعات میں داخل ہونے والے نئے طلبہ کو اپنے پروگراموں اور ریلیوں میں شرکت کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جامعات کے اندر رہنماو¿ں کی باتوں سے اختلاف کرنے پر یا اپنی رائے رکھنے والے طلبہ کی مار پیٹ معمول ہے۔دوسری جانب ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں طلبہ نے سڑکوں پر احتجاج کیا اور نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں کو بلاک کردیا اور مسلسل دوسرے روز بھی ابرار فہد کے قاتلوں کو گرفتار کرنے سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ بنگلہ دیش یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ہونے والے احتجاج میں جامعہ کے سابق طلبہ اور ٹیچنگ اسٹاف نے بھی شرکت کی۔یونیورسٹی کی ٹیچرز ایسو سی ایشن کے صدر اے کے ایم مسعود کا کہنا تھا کہ ‘یونیورسٹی کے رہائشی ہال میں ایک طالب علم کا تشدد سے قتل ناقابل قبول ہے’۔
ہندوستان سماچار


 
Top