ट्रेंडिंग

Blog single photo

آریہ سماج کے پندرہ رکنی وفد کا دارالعلوم دیوبند کادورہ، تعلیم وتربیت سے متعلق گفتگو

09/10/2019

آریہ سماج کے پندرہ رکنی وفد کا دارالعلوم دیوبند کادورہ، تعلیم وتربیت سے متعلق گفتگو
دیوبند، 9 اکتوبر (ہ س) ۔
آ ج عظیم دینی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند میں آریہ سماج کے ایک پندرہ رکنی وفد نے پہنچ کر ادارہ کے ذمہ داران سے ملاقات کی اور یہاںکے بارے میںمعلومات حاصل کرتے ہوئے یہاںدی جانے والی تعلیم و تربیت کے متعلق گفتگوکی۔ سوامی ستیش آنند سرسوتی (راجستھان) کی قیادت میں رمیش شاستری ہریانہ،رویندر آریہ،آچاریہ ستیہ پریہ،اچاریہ سرمو دت،اچاریہ کرپا وغیرپر مشتمل پندرہ رکنی ایک وفد نے دارالعلوم دیوبند پہنچ کر ادارہ کے ذمہ داران سے ملاقات کی اور یہاں دی جانے والی تعلیمات اور دارالعلوم دیوبند کی تاریخ کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کی۔ اس دوران سوامی ستیش آنند نے بتایاکہ انہوں نے دارالعلوم دیوبند اور یہاںکے اکابرین کے بارے میں بہت کچھ پڑھا اور سنا تھا،جس کے بعد ان کی یہاںآنے کی بڑے عرصہ سے خواہش تھی، آج یہاں پہنچ کر روحانی مسرت ہورہی ہے ،انہوںنے کہاکہ ہمیں بتایا گیاہے کہ دارالعلوم دیوبند کے اکابرین نے ملک آزادی میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں،انہوں نے کہاکہ مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں سے ہی ملک کو آزادی حاصل ہوئی تھی ، اس دوران نے انہوں نے حیرت کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ دارالعلوم دیوبند میں تقریباً پانچ ہزار طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان تمام کے مکمل اخراجات دارالعلوم دیوبند برداشت کرتاہے اور حکومت سے کسی بھی طرح کی ایڈ نہیںلیتاہے، انہوں نے کہاکہ یقینی طورپر عوامی چندہ پر چلنے والا یہ ادارہ بڑے تعلیمی کارنامے انجام دے رہاہے ،جس سے پوری دنیا کو فائدہ پہنچ رہاہے۔ بعد ازیں انہوں نے لائبری،مسجد رشید اور دارلعلوم دیوبند کی جدید و قدیم و عمارات کو دیکھا اور کہاکہ دارالعلوم دیوبند کی لائبری میں جو نایاب کتابیں موجود ہیں وہ نادر ہیں،اس طرح کی قیمتی اور نایاب کتابیں بمشکل ہی لائبریریوں میںملتی ہیں ،انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی ہے کہ یہاں تمام مذاہب کی مقدس کتابیں موجود ہیں ،جس میں ایسے نایاب مخطوطات بھی شامل ہیں جو عہد حاضر میں ملنا ناممکن ہے۔ بعد ازیں مہمانوں کے وفد نے ادارہ کے ذمہ داران سے ملاقات کی اور کہاکہ دنیا کے تمام مذہب امن وشانتی اوربھائی چارہ کا پیغام دیتے ہیں ہمیں یہاں آکر بے پناہ خوشی اور روحانی مسرت ہوئی ہے ۔
ہندوستھان سماچارفہیم صدیقی



 
Top